i بین اقوامی

فریم ورک معاہدہ طے ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کا پھر جنوبی لبنان پر حملہ ، حزب اللہ کے زیر زمین فوجی مرکز تباہ کرنے کا دعویتازترین

June 29, 2026

لبنان اسرائیل فریم ورک معاہدہ طے ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک بارپھر حملہ کرتے ہوئے حزب اللہ کے زیر زمین فوجی مرکز تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی حملے میں 8 سالہ بچی سمیت 4 فلسطینی شہید ہو گئے ۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 200 میٹر طویل سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق زیر زمین تنصیب میں سیکڑوں ہتھیار اور متعدد میزائل سائلوز موجود تھے، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ا سرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گائوں میں حزب اللہ کا زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حملے سے قبل امر یکا کو آگاہ کر دیا تھا ، کارروائی میں 200 میٹر لمبی سرنگ کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب لبنان کی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والا فریم ورک معاہدہ متضاد اور ناقابل عمل ہے۔لبنانی کی پارلیمینٹ کے سپیکر نبیہ بری نے کہا یہ معاہدہ اپنی موجودہ شکل میں نامنظور ہوگا اور نہ ہی نافذ کیا جا سکے گا، انہوں نے کہا یہ ایسا معاہدہ ہے جو ڈکٹیشن پر مبنی ہے ناکہ ایسا معاہدہ جو لبنان کے حقوق کا تحفظ کرے۔نبیہ بری نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنانی عوام کے درمیان اختلاف اور تقسیم پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے، جسے وہ مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کے بنیادی حقوق اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ادھر غزہ پر تازہ اسرائیلی حملے میں 8 سالہ بچی سمیت 4 فلسطینی شہید ہو گئے ؎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے خان یونس کے خیمے میں بمباری کی جس کے نتیجے میں بچی سمیت 4 فلسطینی نشانہ بن گئے۔جبکہ غزہ میں صحافیوں کی بڑی تعداد بے گھر یا نقل مکانی پر مجبور ہوگئی۔ فلسطینی صحافیوں کی تنظیم کی فریڈمز کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں 60 سے 75 فیصد صحافی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں یا انہیں جبری طور پر نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔میڈیا ود آ۳۷ ٹ والز کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 265 صحافیوں کی موت ہو چکی ہے جو کسی تنازع میں صحافیوں کی اموات کی عالمی سطح پر سب سے زیادہ شرح ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں میڈیا کے 80 فیصد دفاتر اور ادارے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، صحافتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور اسے مکمل انہدام سے تعبیر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں غزہ کے صحافی روایتی نیوز رومز سے کام نہیں کر رہے بلکہ وہ خیموں، سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان کے پاس بنیادی ذریعہ صرف موبائل فون ہے جبکہ محدود اور غیر مستحکم انٹرنیٹ ان کی اشاعت اور ترسیل کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب شام کے سرحدی علاقے درعا میں اسرائیلی فورسز مقامی افراد سے جھڑپ کے بعد واپس چلی گئیں۔شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی شام کے صوبے درعا میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے نئی چیک پوسٹ قائم کر لی ۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے درعا کے مغربی دیہی علاقے میں واقع گائو ں سریہ جملہ کے قریب دوسری چیک پوسٹ قائم کی جو گزشتہ روز قائم کی گئی ایک اور چیک پوسٹ سے تقریبا 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی شام کے علاقے میں متعدد افراد کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ علاقے سے اسرائیلی افواج اور شہریوں کے لیے خطرے کو ختم کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج شام کے جنوبی علاقے میں بنائے گئے بفر زون میں داخل ہوگئی ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل شام کے 235 مربع کلومیٹر علاقے پر قابض ہے۔ شام کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے جنوبی شام کے صوبوں قنیطرہ اور درعا میں دراندازیوں اور توپ خانے سے گولہ باری کی مذمت کی ہے۔شام کے سرکاری خبررساں ادارے ثنا کے مطابق وزارت خارجہ نے کہا یہ کارروائیاں شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنی ہیں، یہ حملے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلسل حملے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں اور پورے خطے میں کشیدگی اور تنا کو مزید بڑھانے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ دریں اثنا اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں یکے بعد دیگر 2 کار بم دھماکے ہوئے، مشتبہ قاتلانہ حملے میں 2 افراد ہلاک اور ایک اسرائیلی زخمی ہوگیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی