i بین اقوامی

فرانس میں فراری چلانے والا شخص بظاہر بیروزگار اور کنگالتازترین

February 16, 2026

فرانسیسی پولیس نے حال ہی میں ایک سرخ فیراری کار تیز رفتاری سے چلانے والے ایک شخص کو روکا لیکن وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ڈرائیور ایک بے گھر اور نادار تھا اور وہ سرکاری امداد پر گزارا کر رہا تھا۔ جبکہ وہ تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی فیراری کار چلا رہا تھا۔فرانس کے علاقے ووکلیز میں ٹریفک پولیس نے ایک چمکدار سرخ فیراری فورٹوفینو تقریبا 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلاتے ہوئے روکا، تو انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ کار ڈرائیور بیگھر ہوگا اور نادار ہوگا، پوچھ گچھ کے دوران بظاہر اچھے اور عمدہ لباس میں ملبوس اس شخص نے افسران کو بتایا کہ اس کے پاس نہ کوئی ملازمت ہے، نہ کوئی اثاثہ اور نہ ہی کوئی ذریعہ آمدنی ہے۔پولیس حیران تھی کہ 2 لاکھ یورو مالیت کی اسپورٹس کار ایک بے گھر شخص کے زیر استعمال ہو، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، تاہم پولیس کی جانب سے مختصر تفتیش سے معلوم ہوا کہ فیراری کار چلانے والا شخص کئی برسوں سے سرکاری ویلفیئر سے ملنے والی آمدنی پر گزارا کر رہا ہے۔

جب گاڑی کے بارے میں اس سے پوچھا گیا کہ تو ڈرائیور نے کہا کہ یہ اس کی والدہ کی ہے لیکن ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ گاڑی ایک رئیل سٹیٹ کمپنی کے نام رجسٹرڈ تھی جسے یہ، اس کی والدہ اور اس کے دو بہن بھائی چلاتے تھے۔ بعد ازاں تفتیش سے انکشاف ہوا کہ حکومتی فنڈز ہتھیانے اور آمدنی ظاہر نہ کر کے ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔اسی وجہ سے یہ شخص اور اس کا خاندان پرتعیش زندگی گزار رہا تھا، لیکن سرکاری ریکارڈ میں یہ بیروزگار اور دیوالیہ تھے، جس کی وجہ سے انھیں سرکاری مالی امداد مل رہی تھی جبکہ رئیل سٹیٹ کے کاروبار کی آمدنی کو نہ تو ظاہر کیا گیا اور نہ ہی اس پر ٹیکس ادا کیا گیا۔مجموعی طور پر دھوکہ بازوں نے سماجی مراعات کی مد میں کم از کم 1.8 ملین یورو کا غبن کیا، اس کے علاوہ 1.6 ملین یورو( 1.9 ملین ڈالر) سے ان ڈکلیئرڈ آمدنی بھی حاصل کی۔ بعدازاں پولیس نے ان تمام افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی