i بین اقوامی

اسرائیل نے 17 ہزار فلسطینیوں کو علاج تک رسائی سے روک دیا،وزارت صحت غزہتازترین

June 10, 2026

غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے ہے کہ اسرائیل 17 ہزار ایسے فلسطینی مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کے لئے جانے سے روک رہا ہے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ کا صحت کا نظام شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔مریضوں کے انخلا میں تاخیر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے قائم مقام سیکریٹری ماہر شامیہ نے کہا ہے کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھولی گئی تھی تاہم اسرائیل نے اسے کئی بار عارضی طور پر بند بھی کیا۔ان کا کہناہے کہ فلسطینیوں کو ہفتے میں صرف 3 دن غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ طبی انخلا کے لیے کرم ابو سالم کی گزرگاہ صرف 1 دن کھولی جاتی ہے۔ماہر شامیہ نے بتایا ہے کہ رفح کی گزرگاہ کی مسلسل بندش کے باعث مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اس بحران کی مکمل ذمے داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دبائو ڈالیں تاکہ مریضوں کو آزادانہ طور پر غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے اور واپس آنے کی اجازت دی جا سکے۔ماہر شامیہ نے کہا کہ اگر تباہ شدہ طبی ڈھانچے کی بحالی کی جائے تو بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج غزہ کے اندر ہی ممکن ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔رواں سال اپریل میں اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی ترقی 77 سال پیچھے چلی گئی ہے اور بحالی و تعمیرِ نو کے لیے 71 ارب ڈالرز سے زائد درکار ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی 18 ماہ میں بنیادی خدمات، اہم انفرااسٹرکچر اور معیشت کی بحالی کے لیے 26 ارب ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔ادھر جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں جبکہ امدادی سامان کی فراہمی پر بھی تنازع برقرار ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی