i بین اقوامی

اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 5 افراد شہید، کئی زخمی،حزب اللہ کے اسرائیلی فوجی اہداف پر متعدد حملےتازترین

June 09, 2026

جنوبی لبنان میں صیہونی دہشت گردی جاری رہے،،اسرائیلی حملوں میں مزید 5 لبنانی شہید اور کئی زخمی ہو گئے جبکہلبنان کے مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں۔۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق صور شہر میں ریڈ کراس مرکز کے قریب اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 5 ہو گئی۔ اس حملے میں 4 طبی اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔ لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے ابتک اسرائیل لبنان پر ساڑھے 3ہزار بار بمباری کر چکا، اسرائیلی فوج نے لبنان میں 400 سے زائد کنٹرولڈ دھماکے کئے۔اسرائیلی افواج نے لبنانی سرحد کے قریبی دیہاتوں کو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیا، اسرائیلی بربریت کی وجہ سے 10 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ادھر لبنان کے مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں۔حزب اللہ نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے یحمر الشقیف کے جنوب مشرقی مضافات میں ایک اسرائیلی بلڈوزر کو توپ خانے سے نشانہ بنایا، جس کے بعد اسی علاقے میں ایک اور فوجی بلڈوزر پر گائیڈڈ میزائل داغا گیا۔حزب اللہ کے مطابق یحمر الشقیف اور عیناتا کے قریب اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں پر بھی گولے اور راکٹ فائر کیے گئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ التفاح کے علاقے میں اسرائیلی Hermes 450-Zik ڈرون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ڈرون کو پسپا ہونا پڑا۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی، انہوں نے کہا کہ کہ زیقوق المفدی کے مکین گھروں سے نکل جائیں اور شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی خلاف ورزیوں پر کارروائی ناگزیر ہے، حزب اللہ کے عناصر اور تنصیبات کے قریب رہنا خطرناک قرار دے دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، اگر حزب اللہ نے حملہ کیا تو بیروت کو نشانہ بنائیں گے۔ دریں اثنا بین الاقوامی امدادی تنظیم انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے کہا ہے کہ لبنان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ ایک اور جنگ بندی کے ناکام ہونے کے بعد ایک ملین سے زائد بے گھر افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ آئی آر سی کے لبنان میں کنٹری ڈائریکٹر رک بارٹولڈس نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہماری ٹیمیں بحران کے آغاز سے ہی ہنگامی امداد فراہم کر رہی ہیں، تاہم متاثرہ افراد کی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک اور جنگ بندی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔رک بارٹولڈس نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا، آئی آر سی کی جائزہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان میں 94 فیصد بے گھر افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، اور بہت سے خاندان تین ماہ کے بحران کے دوران اپنی جمع پونجی بھی ختم کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعدد خاندان یہ بھی دریافت کر رہے ہیں کہ ان کے گھر یا پورے پورے دیہات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، انسانی ضروریات انتہائی وسیع ہیں اور اگر ہمیں بحالی کی کوئی امید چاہیے تو ہمیں ایک پائیدار جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی