امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس میں نیا اور مستقل سفارت خانہ تعمیر کرنے کیلئے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دئیے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ایک تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کے لئے زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اسرائیلی وزارتِ خارجہ میں منعقدہ دستخطی تقریب کے دوران کہا کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور ہمیشہ کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مقبوضہ بیت المقذس کی سرزمین پر اپنا پرچم نصب کرے گا اور یہاں ایک نیا، مستقل سفاری کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا
جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔اسرائیل کے وزیر خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ناقابلِ شکست اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔اعلامیے کے مطابق امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ایلنبی کمپائونڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔دوسری جانب اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ نے سفارت خانے کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع شہروں میں سے ایک ہے، جہاں فلسطینی مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی