بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر لازمی ٹول انٹرنیشنل لا کے تحت غیر قانونی ہوگا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی نظام جو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ نقل و حرکت کو متاثر کرے بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہوگا، آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر عمانی حکام سے تفصیلی بات چیت کی ہے، جس میں آبنائے ملاکا اور سنگاپور میں رائج انتظامی ماڈل پر بھی غور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان قائم سہ فریقی فریم ورک 2007 سے کامیابی سے کام کر رہا ہے، اس نظام میں بحری سلامتی اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کیلئے فنڈنگ لازمی ٹول کے بجائے جہاز رانی کی صنعت اور استعمال کرنے والے ممالک کی رضاکارانہ مالی معاونت سے کی جاتی ہے۔بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکرٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک ایسے ماڈل سے سیکھنے کی کوشش ہے جو پہلے سے موجود ہے اور کامیابی کے ساتھ آزمایا جا چکا ہے، مقصد علاقائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بحران کا قابل عمل حل تلاش کرنا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی