i بین اقوامی

آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک کے تین ہزارجہاز پھنس گئے، عالمی ترسیل متاثرتازترین

April 01, 2026

ایران پر جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک کے تقریبا 3 ہزار جہاز پھنس گئے ، جس سے عالمی تجارت اور ترسیل کا نظام شدید متاثر ہو گیا ۔ایرانی رپورٹس میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ٹرانسپورٹ کمپنیاں متبادل اور طویل زمینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں 200 فیصد تک اضافہ اور ترسیل کے وقت میں تین گنا تک تاخیر ہو گئی ہے۔ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ان ممالک کیلئے بند کی گئی ہے جو جارحیت میں ملوث ہیں، جبکہ دیگر ممالک ایرانی حکام سے رابطہ کرکے اپنے جہاز گزار سکتے ہیں۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کم از کم 18 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز شامل ہیں، آبنائے ہرمز میں محصور ہیں۔

رپورٹس کے مطابق خلیج فارس کے دیگر سمندری علاقے بھی ہائی رسک زون قرار دیے جا چکے ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے کی بندش بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک میں توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یقینا دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ کے لیے نہیں؛ یہ ان لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جو ایران کے نئے قوانین کی تعمیل کریں گے۔اپنے ایکس اکاونٹ سے جاری پیغام میں عزیزی نے ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہمان نوازی کے 47 سال ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے ہیں۔عزیزی کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ نے بالآخر حکومت کی تبدیلی کا اپنا خواب پورا کر لیا ہے لیکن یہ تبدیلی خطے کی سمندری حکومت میں آئی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی