محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری، ٹیچنگ اور ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں نرسری اور نیونیٹولوجی سیٹ اپ کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار(ایس اوپیز)کا جائزہ لینے اور انہیں تیار کرنے کیلئے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔جاری اعلا میہ کے مطابق یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے کنوینر جبکہ چلڈرن ہسپتال لاہور کے ریٹائرڈ پروفیسر آف نیونیٹولوجی پروفیسر خواجہ احمد عرفان وحید شریک کنوینئر ہوں گے۔ٹیکنیکل ورکنگ گروپ میں ڈائریکٹر جنرل نرسنگ مس طاہرہ پروین، پرنسپل گوجرانوالہ میڈیکل کالج پروفیسر ہارون حامد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال ملتان پروفیسر ڈاکٹر کاشف چشتی، پروفیسر آف پیڈیاٹرک میڈیسن خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ پروفیسر مدثر حسین، نیونیٹولوجسٹ اور جنرل سیکرٹری پی پی اے پنجاب ڈاکٹر کلیم اختر ملہی، قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نیونیٹولوجی ڈاکٹر محمد انوار، چلڈرن ہسپتال لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر نیونیٹولوجی ڈاکٹر مظہر قدیر خان، بائیومیڈیکل انجینئر عرفان حیدر اور ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ (ریسکیو 1122 )کے نمائندے شامل ہوں گے۔
محکمہ صحت کے مطابق ٹیکنیکل ورکنگ گروپ وسائل کے بہترین استعمال اور مریضوں کے بوجھ کو متوازن رکھنے کے لیے نیونیٹل مریضوں کے کلینیکل داخلے اور ڈسچارج کے واضح معیار مرتب کرے گا۔گروپ کو مستحکم نوزائیدہ بچوں کو مناسب وقت پر منتقل کرنے اور دستیاب وسائل کے مثر استعمال کے لیے ملحقہ اور پریفیرل ہسپتالوں کے ساتھ سٹیپ ڈان اور شیئرڈ کیئر کے باضابطہ نظام وضع کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ٹیکنیکل ورکنگ گروپ نیونیٹل یونٹس میں آگ لگنے کے خطرات، برقی لوڈ سے متعلق مسائل اور ہنگامی انخلا کے چیلنجز کے حوالے سے بنیادی ڈھانچے کے لئے رہنما اصول بھی تجویز کرے گا۔اس کے علاوہ نیونیٹل کیئر کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے آگ سے تحفظ، ہنگامی انخلا، آگ بجھانے اور الیکٹریکل لوڈ مینجمنٹ سے متعلق جامع ایس او پیز کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔گروپ ڈاکٹروں، نرسوں اور معاون عملے کیلئے ہنگامی انخلا کی مشقوں، نوزائیدہ بچوں کی محفوظ منتقلی اور بنیادی آگ بجھانے کی تربیت کے لئے تربیتی ماڈیولز بھی تیار کرے گا۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سفارشات 7 روز کے اندر مجاز اتھارٹی کو پیش کرے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی