سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے 9 جنوری 2017 کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 15 سال بعد قتل کے 3 ملزمان کو بری کر دیا۔جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 10 صفحات پر مشتمل بریت کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے منیر احمد، ذوالفقار عرف کالا اور نصیر احمد کو قتل کے مقدمے سے بری کر دیا، قتل کا واقعہ 17 دسمبر 2010 کو ضلع لودھراں میں پیش آیا تھا، جہاں غلام سروار کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ مقدمے کے مطابق مقتول غلام سرور کو متعدد فائرنگ کے زخم لگے اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان موقع پر موجود تھے اور مشترکہ نیت سے فائرنگ کی تھی، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔
ٹرائل کورٹ نے 24 ستمبر 2011 کو ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دے کر دو ملزمان کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سناء تھی تاہم لاہور ہائیکورٹ نے 9 جنوری 2017 کو عمر قید والے ملزم کی سزا برقرار رکھی تھی، بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے دو ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ کے مطابق استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور گواہوں کی موجودگی موقع واردات پر ثابت نہیں ہوئی، گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات بھی پائے گئے جبکہ سپریم کورٹ نے گواہوں کو اتفاقی گواہ قرار دے دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فائرنگ کی تفصیل انسانی طور پر مشاہدہ کرنا ممکن نہیں تھی، میڈیکل رپورٹ بھی عینی شہادت کی مکمل تائید نہیں کرتی تھی جبکہ اسلحہ اور خالی خولوں کی برآمدگی ناقابلِ بھروسہ ہے، ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا جاتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی