i پاکستان

سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی اور رہنمائوں کی سکیورٹی اچانک واپس لے لیتازترین

January 27, 2026

سندھ حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی اور رہنمائوں کی سکیورٹی اچانک واپس لے لی گئی جبکہ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقینا کچھ وجوہات ہوں گی۔تفصیل کے مطابق وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، امین الحق، فاروق ستار، انیس قائم خانی سکیورٹی سے محروم ہو گئے، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی۔وزارت داخلہ سندھ نے سکیورٹی اہلکاروں کو فوری واپس آنے کی ہدایت کر دی۔ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور لیڈروں نے سکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا، ایم کیو ایم رہنما نے بتایا کہ انہیں سکیورٹی واپس بلانے کی وجہ نہیں بتائی گئی، ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید وجہ بنی ہو، متحدہ رہنما نے کہا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے۔

دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا تھا شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا میرے پاس کوئی پولیس سکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سکیورٹی نہیں ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقینا کوئی وجوہات ہوں گی۔سعدیہ جاوید کا کہنا تھا سندھ میں فارنزک لیب کا قائم نہ ہونا حکومت کی کوتاہی ہے، اس سال کے آخر میں سندھ کی فارنزک لیب فعال ہو جائے گی۔گل پلازا کے متاثرین کی منتقلی سے متعلق سوال پر ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا گل پلازا کے سامنے دو پلازے ہیں جہاں دکانداروں کو شفٹ کیا جائے گا، حکومت پلازا کے مالکان سے بات کررہی ہے، ایک پلازا میں 500 اور دوسرے پلازے میں 350 دکانیں ہیں۔ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کمیٹی گل پلازا کے نقصان کا تخمینہ لگائے گی، اس کا ازالہ بھی حکومت کرے گی، کمیٹی تین ہفتے میں گل پلازا کے نقصان کی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی