وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے سوشل میڈیا پر ایک کمسن بچے کی سنگین حالت سے متعلق شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی چلڈرن وارڈ کا دورہ کیا۔وزیرِ اعلی نے بچے کے اہلِخانہ سے ملاقات کی اور معاملے کی مکمل انکوائری کی، اس موقع پر متعلقہ ڈاکٹروں نے آگاہ کیا کہ بچوں کے آئی سی یو میں بیڈ کی کمی کے باعث مریض کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے، جہاں بیڈ دستیاب ہے۔سہیل آفریدی نے فوری طور پر ایمبولینس کی فراہمی اور مریض کی بروقت منتقلی کے احکامات جاری کئے۔وزیرِ اعلی نے بچوں کے آئی سی یو کیلئے نئے بیڈز کی فراہمی، فوری طور پر فیبری کیٹڈ ایکسٹینشن رومز کے قیام اور ہنگامی بنیادوں پر صلاحیت بڑھانے کی ہدایت کی
انہوں نے واضح کیا کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں بیڈ دستیاب نہ ہوں تو نجی ہسپتالوں میں علاج کا بندوبست کیا جائے گا اور اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔انہوں نے ہسپتالوں میں بیڈ کی دستیابی جانچنے کیلئے سنٹرلائزڈ ہسپتال سسٹم کو موثر بنانے، پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کی ازسرِنو بہتری اور ڈاکٹروں کے ہاسٹلز میں کمروں کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی، جبکہ دیگر مریضوں کے مسائل بھی موقع پر حل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ڈاکٹرز اور اساتذہ برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی فلاح و سہولت حکومت کی ترجیح ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی