ایس آئی ایف سی کی فعال سفارتی و معاشی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے نئے دور میں داخل ہوگیا ۔زرعی شعبہ میں اہم کامیابیوں کے ساتھ پاکستان نے چین اور انڈونیشیا کے ساتھ زرعی و اقتصادی تعاون میں اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبہ میں 79 کمپنیوں کے ساتھ 4.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ پاک-چین زرعی سرمایہ کاری کے معاہدے 10 کلیدی شعبوں پر محیط ہیں جن میں فوڈ پروسیسنگ، ایگری ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اوردیگرشامل ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ تجارت جام کمال خان اور انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسنانتو سوکوٹجون کی اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین چاول کی تجارت اور زرعی شعبہ میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔وزیرِ تجارت کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے صفِ اول کے چاول برآمد کنندگان میں شامل ہے جس نے معیار اور اعتماد کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں اپنی پہچان بنائی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مستحکم کریں گے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی