i پاکستان

وزیر داخلہ کا ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں جدید ترین مانیٹرنگ نظام کا افتتاحتازترین

January 26, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاسپورٹس کی درخواستوں، پرنٹنگ اور مجموعی کارکردگی کے لیے جدید ترین مانیٹرنگ نظام شکرا کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں 24 گھنٹے فعال مانیٹرنگ روم اور کال سینٹر کا بھی آغاز کر دیا گیا۔ وزیر داخلہ کی ہدایت پر ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کو سیکیور ہائبرڈ انٹیلیجنس فار نالج بیسڈ ریسپانس اینالیٹکس (شکرا)سسٹم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انٹیگریٹڈ ڈیش بورڈ کے ذریعے یومیہ آپریشنز اور تمام عملے کی کارکردگی کی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن ممکن ہوگی۔ محسن نقوی نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے پر ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان پاسپورٹ سسٹم کو دنیا کے بہترین ممالک کے معیار کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے نظام کے تحت پاکستان اور دنیا بھر میں پاسپورٹ درخواستوں اور ڈیلیوری کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی، جبکہ پاسپورٹ کے اپلائی ہونے سے لے کر اس کی فراہمی تک ہر مرحلے پر نگرانی کی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد شہریوں کو عالمی معیار کی تیز رفتار، محفوظ اور شفاف خدمات فراہم کرنا ہے، جبکہ جدید مانیٹرنگ سسٹم سے محکمہ پاسپورٹس کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ محسن نقوی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کے سیکیورٹی فیچرز کو آئی سی اے او (ICAO) اسٹینڈرڈز کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے، جبکہ جدید آٹومیٹک جرمن مشینوں کے استعمال سے محکمے کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے۔ آٹومیٹک مشینوں کے ذریعے پاسپورٹ پرنٹنگ کے عمل سے انسانی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے ای مانیٹرنگ روم، کال سینٹر، فرانزک لیب اور جدید پروڈکشن یونٹ کا بھی دورہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے مانیٹرنگ سسٹم کے تحت پاسپورٹ دفاتر میں رش کی خودکار نشاندہی، بیک لاگ اور مشینری اسٹیٹس کی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی