قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ امید کا مرکز فقط پاکستان، کشمیری قیادت، قومی طبقات اور تمام سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت کرتے ہوئے قابل عمل راہ حل متعارف کرایا جائے، خطے میں مسئلہ کشمیر کے حل تک پائیدار قیام امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم یکجہتی کشمیر پرمختلف شخصیات سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام ایک عرصہ سے اپنی آزادی کی تمنا لئے ہوئے کہیں جام شہادت نوش کررہے ہیں تو کہیں عصمت دری، پیلٹ گنز کے ذریعے نشانہ بنایا جارہاہے، ریاستی جبر و ظلم کا کونسا حربہ ہے جو ان مظلوم عوام پر نہ آزمایاگیا ہو مگر آج بھی کشمیر سے آزادی کی صدائیں بلند ہورہی ہیں افسوس! پاکستان کی طر ف سے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ،مگر اس کے باوجو دبھارت مسلسل غاصبانہ اقدامات کئے جارہاہے۔
انہوںنے کہاکہ ایسا قابل قبول لائحہ عمل وضع کیاجائے تاکہ مسئلہ کشمیر ''جو جنوبی ایشیا میں پائیدارامن کے قیام کیلئے انتہائی ضروری مسئلہ ہے ''حل ہو اور کشمیری عوام کو بھی اپنی سرزمین پر آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہو۔ انہوںنے تجویز دی کہ کشمیری قیادت، تمام قومی طبقات اور سٹیک ہولڈرز میں سے صاحب الرائے افراد سے تجاویز مرتب کریں اور مفصل غور کے بعد لائحہ عمل کی شکل میں پیش کیا جائے او راسکی روشنی میں اقدامات اٹھائے جائیں تو پھر نہ صرف کشمیری عوام کی ڈھارس بندھے گی بلکہ جنوبی ایشیاکا سب سے بڑا مسئلہ سنجیدہ حل کی جانب بھی بڑھے گا ۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک عرصہ سے دہشت گردی، انتہاء پسندی کے مسئلہ سے نبرد آزما ہے، انہوںنے بلوچستان کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار اور سیکورٹی فورسز کیساتھ سویلین شہادتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی