i پاکستان

ملک میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں ، قیمتوں کو مزید روکنا بڑا مشکل ہو گا ،عطا اللہ تارڑتازترین

March 31, 2026

وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں ،مگر وفاقی حکومت تین ہفتوں میں اب تک بچت اور پی ایس ڈی سے 129 ارب روپے کی پٹرول پر سبسڈی دے چکی ہے، قیمتوں کو مزید روکنا بڑا مشکل ہو گا ،آئندہ ایک دو روز میں آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آ جائے گا۔ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک دن کی چھٹی بڑھانے یا اسکول بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، لوگ گھر بیٹھنے کی بجائے اور زیادہ باہر جانا شروع ہوگئے۔انہوں نے کہا صدر مملکت کی زیر صد ارت اجلاس اس پر تھا کہ پٹرول کے ذخائر کتنے ہیں، کتنے وقت تک قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکتا ہے اور عوام کو کیسے بتایا جائے کہ یہ لانگ ویک اینڈ نہیں کہ باہر نکل جائیں بلکہ پٹرول بچانا ہے۔ وزیراعظم نے بروقت پٹرول آرڈرکیا، فجیرہ اور یمبو سعودی عرب سے تیل منوایا گیا، وزیرداخلہ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی یقینی بنانے کے لیے ایران سے رابطہ کاری کی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں کو مزید روکنا بڑا مشکل ہو گا، وفاقی حکومت اب تک پٹرولیم پر 129 ارب روپے کی سبسڈی ڈال چکی ہے اور یہ ہر ہفتے کا خرچہ ہے۔ اس وقت ایک ہی ریٹ پر لینڈ کروزر والا پڑول بھی ڈال رہا ہے اور موٹرسائیکل والا بھی۔حکومت کی کوشش ہے کہ فائدہ صرف ضرورت مند طبقے کو پہنچایا جائے ۔ اب اس پرورکنگ چل رہی ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت جو ہر ہفتے 50 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے رہی ہے اس کو زیادہ دیر چلانا ممکن نہیں۔ اسی لئے صوبوں کے ساتھ اجلاس کیا آئندہ ایک دو روز میں آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آ جائے گا۔ آبنائے ہرمز کے باہر سے بھی پاکستان کو کارگو ملے ہیں اور اندر سے بھی۔ ہمارے پر پٹرول کی ترسیل کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے 20 جہازوں کی جو بات کی اس پر میں رائے نہیں دے سکتا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک دن کی چھٹی بڑھانے،اسکول بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لوگ گھر بیٹھنے کی بجائے اور زیادہ باہر جانا شروع ہو گئے، عوام کو سمجھنا ہو گا کہ یہ مشکل صورتحال ہے، حکومت کی ساٹھ فیصد گاڑیاں کھڑی کر دی گئی ہیں، پچاس فیصد پٹرول کاٹا گیا ہے۔ ہائی آکٹین کی قیمت بڑھانے سے نو ارب روپے ملے ہیں۔ اب ایک آپشن اس وقت لاک ڈاون ہے۔ دوسرا آپشن قیمتیں بڑھانا اور کم آمدنی والے طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اجلاس میں بات ہوئی ہے فیصلہ نہیں ہوا، فیصلہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں صوبوں کی مشاورت سے ہو گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی