i پاکستان

ملک میں کوئی سیاسی افراتفری نہیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے،رانا ثنا اللہتازترین

December 31, 2025

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی افراتفری نہیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے، وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات میں نہیں بلکہ اسٹریٹ مووومنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں،جو لوگ کہتے مذاکرات کیلئے بانی سے ملاقات کروائیں ، ہمیں پہلے ہی پتہ ہے کہ انہیں مذاکرات کی کوئی اجازت نہیں ملنی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے حالیہ لاہور دورے پر ردِ عمل اور ایک انٹرویو میں کیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ لاہور میں کہیں بھی ایسی کوئی صورتحال نہیں دیکھی گئی جہاں ہزار یا دو ہزار افراد سڑکوں پر نکلے ہوں۔رانا ثنااللہ نے کہا سہیل آفریدی کے ساتھ محض 50 یا 100 افراد تھے جو پنجاب اسمبلی میں دھکم پیل کرتے نظر آئے، ملک میں کوئی سیاسی افراتفری موجود نہیں، سیاسی پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر اپنا موقف میڈیا کے ذریعے پیش کرتی رہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات میں ہے، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایک سے زیادہ بار مذاکرات کی پیشکش کی ہے حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ اگر وزیراعظم ہائوس نہیں آنا چاہتے تو سپیکر آفس آ جائیں، تمام فریقین کو ٹیبل پر بیٹھنا ہوگا

تب ہی مسائل حل ہو سکیں گے۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی مذاکرات اور ڈائیلاگ پر یقین نہیں رکھتے اور اب تک انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی کے پیغامات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ بات چیت کے حامی نہیں ہیں تاہم بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کے کچھ سینئر رہنما مذاکرات کے حق میں ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا گالم گلوچ بریگیڈ خود اپنی قیادت کی ٹرولنگ کرتا ہے، علیمہ خان اور عظمی خان کو ملاقات کے دوران کہا گیا کہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اس کے بجائے سٹریٹ مہم چلائی جائے۔رانا ثنااللہ نے مزید کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں اپوزیشن سے حال احوال تک نہیں پوچھا اس لیے اب مذاکرات کی بات کرنا محض دعوی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے سٹریٹ موومنٹ چلانے کی کوشش کی تو وہ بری طرح ناکام ہوگی اور اگر کسی قسم کی انارکی یا افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی تو حکومت بھرپور کارروائی کرے گی۔

دریں اثنا ایک انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا مئوقف اور حکومت کا اپنا مئوقف ہے، دونوں اپنے مئوقف کو جائز سمجھتے ہیں، اس کیلئے دونوں کا ٹیبل پر بیٹھنا اور ایک دوسرے کے مئوقف کو سننا بہت ضروری ہے، اس وقت جو صورتحال ہے وہ پچھلے 14سالوں سے بنی ہوئی ہے،جب مینارپاکستان پر پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا تھا، اور اس کے بعد پی ٹی آئی نے ایک مقبول ترین جماعت کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔عمران خان کی ساری سیاست کو دیکھ لیں وہ ڈائیلاگ پر یقین نہیں رکھتے، کہ بیٹھ کر مذاکرات کئے جائیں، ان کے دھرنے لانگ مارچ دیکھ لیں، عمران خان حکومت میں بھی تھے تو اپوزیشن سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں سمجھتے تھے، پلوامہ واقعے پر بھی کمیٹی میٹنگ میں نہیں آئے کہ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ نہ ملانا پڑ جائے۔ یہ باتیں کہ ملاقات کروائی جائے، مذاکرات کیلئے آمادہ کرلیں گے، دستخط کروا لیں گے، لیکن میں وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں بلکہ اسٹریٹ مووومنٹ کرنا چاہتے ہیں،جو لوگ کہتے مذاکرات کیلئے ہماری ملاقات کروائیں ، ہمیں پہلے ہی پتا ہے کہ انہیں مذاکرات کی کوئی اجازت نہیں ملنی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی