ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، سڑکیں زیرِ آب اور بجلی معطل ہوگئی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 24گھنٹوں کیلئے شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ،پنجاب کے دریائوں میں پانی کے بہائو میں اضافہ ہونے لگا،دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا۔تفصیل کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں جمعرات کی علی الصبح شدید بارش شروع ہوئی ، ایئرپورٹ پر بارش نے ملی میٹر میں ڈبل سنچری مکمل کر لی۔ایئرپورٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ 212 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جیل روڈ 12.2، ایئرپورٹ 212، ہیڈ آفس گلبرگ 40، لکشمی چوک 16.5، اپر مال 104 کی گئی، مغلپورہ 117، تاجپورہ 123، نشتر ٹان 32.8، چوک ناخدا 48، پانی والا تالاب 21، فرخ آباد 20 ریکارڈ کی گئی۔اس کے علاوہ گلشن راوی 11.5، اقبال ٹائون 47.4، سمن آباد 22، جوہر ٹان 57، ڈیفنس روڈ 40، شادی پورہ 120، سگیاں 16، کاہنہ 119 اور مناواں 89، ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لاہور میں سینٹر پارک سے قصور جانے والی سڑک پر گیٹ نمبر 2 کے قریب پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں 2 سگے بھائی جاں بحق ہو گئے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق بارش کے دوران موٹر سائیکل بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دونوں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
جاں بحق بھائیوں کی شناخت حمزہ ولد عارف، عمر تقریبا 18 سال اور حسن ولد عارف، عمر تقریبا 16 سال کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں سگے بھائی سٹی لاہور سے قصور جا رہے تھے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ٹریفک پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ بارش کے باعث موٹر سائیکل بے قابو ہونے کے نتیجے میں پیش آیا۔سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران موٹر سائیکل انتہائی محتاط انداز میں اور مناسب رفتار سے چلائیں۔انہوں نے کہا کہ ہیلمٹ کا لازمی استعمال کریں اور پھسلن والی سڑکوں پر غیر ضروری اوور اسپیڈنگ اور خطرناک اوور ٹیکنگ سے گریز کریں۔ لاہور ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی حالات میں اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ پنجاب کے دیگر شہروں قصور، گوجرانوالو، وزیر آباد، گجرات، نارووال، شکر گڑھ، مریدکے، کامونکے، حافظ آباد، جلالپور جٹاں اور دیگر شہروں میں بھی بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا، کئی روز سے جاری شدید گرمی اور حبس کا زور بھی ٹوٹ گیا۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارش کی پیش گوئی کر دی گئی جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا، بارش کے دوران شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی گئی، موٹر سائیکل سواروں اور ڈرائیورز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر جمع پانی سے گزرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں۔ماہرین کے مطابق بارش کے دوران کھڑے پانی میں بجلی کے کرنٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لئے بجلی کی تاروں، کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کے قریب جانے سے اجتناب کیا جائے۔
انتظامیہ نے بھی شہریوں سے اپیل کی کہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ادھر سندھ کے مختلف شہروں میں رات سے طوفانی ہواں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا ہے اور موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ تاہم، کئی اضلاع میں سڑکیں زیرِ آب آگئی ہپیں اور بجلی بھی معطل ہوگئی ہے۔گزشتہ رات کندھ کوٹ، خیرپور، کشمور، سکھر اور پنوعاقل سمیت متعدد علاقوں میں بادل جم کر برسے۔ شدید بارش کے بعد جہاں شہریوں نے گرمی سے نجات ملنے پر سکھ کا سانس لیا ہے، وہیں نشیبی علاقے زیرِ آب آنے اور بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔کندھ کوٹ میں رات گئے سے وقفے وقفے سے تیز ہوائوں کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش کے باعث شہر کے کئی اہم راستوں اور سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا ہے جس سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تیز ہواں کی وجہ سے متعدد بجلی کے فیڈرز بند ہو گئے ہیں۔ خیرپور اور اس کے گردونواح میں بھی طوفانی ہوائوں کے ساتھ شدید برسات ہوئی، جس سے گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے تاہم شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی غائب ہو گئی۔کشمور، گڈو، بخشاپور اور بڈانی میں بھی بادل کھل کر برسے، جہاں نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا اور تمام بجلی کے فیڈرز ٹرپ کر جانے سے علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔سکھر شہر اور اس کے اطراف میں گرج چمک کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش سے ایک درجن سے زائد فیڈرز بند ہو گئے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس طوفانی بارش سے کھجور کی فصل کو جزوی طور پر نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔پنوعاقل اور اس کے گردونواح میں بھی تیز اور ٹھنڈی ہوائوں کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم تیز ہوائوں کے باعث کئی بجلی کے فیڈرز بند ہو گئے جس سے پورا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو سڑکوں سے پانی کی نکاسی اور بجلی کے نظام کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ۔این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔الرٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، گلگت، دیامر، گانچھے اور شگر کے ندی نالوں میں پانی کے بہاو میں اضافے کا امکان ہے جبکہ استور، کھرمنگ اور روندو کے دریاوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔خیبرپختونخوا میں چترال، مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، پشاور، خیبر، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، ہنگو، شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز بہاو اور برساتی ریلوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں باغ، حویلی، پونچھ، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور کے دریاوں اور ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں میں پانی کے بہاو میں اضافے کا امکان ہے جبکہ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسی خیل، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، زیارت، دکی، بارکھان، ہرنائی، سبی، کچھی، خضدار، لہڑی اور جھل مگسی میں بھی طغیانی کا خدشہ ہے۔دریائوں کی صورتحال کے حوالے سے این ڈی ایم اے نے بتایا کہ دریائے چناب مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب جبکہ دریائے جہلم منگلا کے بالائی علاقوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ جہلم، چناب اور راوی بیسن کے متعدد نالوں میں پانی کے بہاو میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی بلوکی کے مقام پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کم درجے کے سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائے سوات، پنجکوڑہ، چترال، کابل اور ان کے معاون دریاوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔این ڈی ایم اے نے عوام کو حساس مقامات اور پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، ہنگامی ٹیموں کی تیاری اور ممکنہ طور پر بند ہونے والی شاہراہوں کی فوری بحالی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی صورتحال سے متعلق بروقت معلومات کے لیے این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ استعمال کریں۔ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانیدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہا بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔س کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہا 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادھر سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریائوں کے بہائو میں اضافہ ہوا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی