i پاکستان

ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری، رابطہ سڑکیں بند، سیاح پھنس گئے، مختلف حادثات میں3 افراد جاں بحق،متعدد زخمیتازترین

January 23, 2026

ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا، کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہونے سے سیاح پھنس گئے، مختلف حادثات میں 3 افراد جاںبحق اور متعددزخمی ہو گئے۔بلوچستان کے شمال بالائی علاقوں میں برفانی طوفان کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی۔زیارت جانے والے سیاحوں کی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئیں، چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں موجود ہیں۔این 50 شاہراہ کان مہترزئی، خانوزئی، مسلم باغ سمیت کئی مقامات پر ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے، شاہراہ پر برف اور پھسلن سے بین الصوبائی شاہراہ پر مسافر اور مال بردارگاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ این 50 پر 9 مختلف حادثات میں27 افراد زخمی ہوئے ہیں۔کوژک ٹاپ کے مقام پر شدید سائیبرین ہوائیں چلنے سے این 25 چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 تک گر گیا۔شیلاباغ کے قریب پھسلن سے کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ ادھر میانوالی تحصیل پپلاں میں بارش کے باعث مرغی خانے کی چھت گرنے سے سترہ سال کا عبدالرحمن نامی لڑکا جاں بحق، جبکہ دو افراد شدید زخمی ہوگئے ۔

میانوالی تحصیل پپلاں کے علاقے میں بارش کے باعث مرغی خانے کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،چھت کا ملبہ گرنے سے نوجوان عبدالرحمن موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا،جاں بحق ہونے والے کی شناخت 17 سال کے عبدالرحمن کے نام سے ہوئی ۔حادثے میں دو افراد شدید زخمی بھی ہوئے ریسکیو نے موقع پر پہنچ کرزخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے اسپتال منتقل کردیا ۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آئندہ 24گھنٹوں میں تیز بارش اور شدید برفباری کا امکان ہے۔ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 4 اور زیادہ سے زیادہ 12ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری میں شام سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک تقریبا 12 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی۔وسری جانب مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ،لوئر دیر، مہمند،کالام، اورکزئی، چترال، خیبر سمیت خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی۔ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پرپھنس گئیں، 35 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

شانگلہ میں شدید برف باری کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا، چترال میں برف باری سے متعدد رابطہ سڑکیں آمدورفت کیلئے بند ہو گئیں۔سیاحتی مقام ناران میں 6 انچ اور شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑ چکی ہے، سیاح برف باری سے لطف اندوز ہونے کیلئے شوگران پہنچ گئے۔سیکرٹری ریلیف کے مطابق پشاور، نوشہرہ، صوابی اور مردان کی ریسکیو ٹیمیں موقع پرپہنچ گئی ہیں۔ 50 سے زائد اہلکار، 16ایمبولینس اور بھاری مشنیری میں موجود ہے کمبل، سوئٹرز، بستر اور دیگر ضروری سامان پر مشتمل 10 ٹرک روانہ کردئیے گئے ہیں۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بہت زیاہ برفباری ہوئی ہے، وہاں کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں جنھیں ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ میڈیا سے بات تے ہوئے وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ وادی تیراہ میں ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا ہے، بھاری مشنیری کے ذریعے سڑک صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خوراک اور دیگر امدادی سامان پر مشتمل ٹرک تیراہ روانہ کر دئیے گئے ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے بھی تیراہ سے عارضی انخلا کرنے والے شہریوں کے لیے برفباری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پاک فوج کی جانب سے تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والیخاندانوں کی مکمل دیکھ بھال جاری ہے۔ برفباری کے دوران پاک فوج اور مقامی انتظامیہ سڑکوں پر ٹریفک روانی یقینی بنا رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کو خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی سہولتوں کی مسلسل فراہمی جاری ہے۔ مری اور گردونواح میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔مری ایکسپریس وے این 75 پر شدید برف باری کے بعد پھلگراں ٹال پلازہ سے مری کی طرف ہر قسم کی ٹریفک بند کر دی گئی۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق مری ایکسپریس وے پر برف باری کے باعث ضلعی انتظامیہ نے مری جانے والی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا۔ مزید اور تازہ ترین ٹریفک اپڈیٹس کے لئے @NHMP کے سوشل میڈیا اکائونٹس فالو کریں۔پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور محتاط رہنے کی ہدایت کر دی۔ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم کی سے موسم کی صورتحال پر مسلسل نگرانی جاری ہے، ایمرجنسی کی صورت میں 1129 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر مری میں موثر و مربوط انتظامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سیاحوں میں خوش میوہ جات اور کھانے پینے کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ ہائی وے کا عملہ شاہراہوں سے برف ہٹانے کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔صوبائی وزیر مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ مری میں تمام تر انتظامات کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ ٹورسٹ کیمپس مکمل فعال، تمام محکموں کے ملازمین ڈیوٹی پر موجود ہیں۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راولپنڈی میں سب سے زیادہ بارش 38 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ چکلالہ میں 38، کچہری 15، شمسباد 16 اور پیر ودہائی میں 12 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔چکوال میں 37، سیالکوٹ 34، نارووال 33، منگلا 29، اٹک 28 اور سرگودھا میں 27 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ جہلم میں 23، جوہرآباد 22، لاہور 21، گجرات 20، ملتان 19، نورپور تھل 16 اور لیہ میں 15 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ریکارڈ کی گئی۔حافظ آباد میں 13، شیخوپورہ 11، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ 10، کوٹ ادو 09، ڈی جی خان 7، خانیوال 6، ساہیوال اور فیصل آباد میں 4 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ۔پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے موسمی صورتحال کی نگرانی جاری، شہری بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید برفباری کے باعث تیراہ روڈ بند ہونے سے گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔متاثرہ افراد کو خوراک کی فراہمی کیساتھ محفوظ مقامات پرمنتقل کیاجارہا ہے۔ ریسکیو 1122 نے پشاور سے 15 ریسکیو اہلکار تیراہ روانہ کیے ہیں۔ان کے ہمراہ ریکوری گاڑیاں، ایمبولینس، طبی سامان اور ریسکیو آلات موجود ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے صوبے بھرکی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کے باعث متعدد گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ سڑکوں پر پھسلن اور برف جمع ہونے کے باعث آمدورفت متاثر ہے۔ پھنسے ہوئے افراد اورگاڑیوں کو نکالنے کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینس اورتربیت یافتہ اہلکار موقع پر موجود ہیں۔ادھر گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں دو سے تین فٹ تک برف باری ہوچکی ہے، تمام بالائی علاقوں سیزمینی رابطہ منقطع ہوگیا جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ہنزہ اور نگر میں بھی برفباری ہوئی، زلزلے سے متاثرہ علاقے چیپورسن میں برف باری نیخیموں میں مقیم متاثرین کی مشکلات بڑھا دیں۔چلاس، بابو سرٹاپ، نانگا پربت،بٹو گاہ، داریل، تانگیر میں برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش ہوئی جبکہ راولاکوٹ، ہٹیاں بالا،چناری،چکوٹھی، لیپا ویلی، گنگا چوٹی، اڑنگ کیل،گریس، سرگن ویلی سمیت بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ سیکرٹری ریلیف خیبر پختونخوا سہیل خان کے مطابق تیراہ میں پھنسیافراد کو ریسکیو کرنیکا عمل جاری ہے، 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پرپھنسی ہوئی ہیں، 35 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔دریں اثناکراچی میں بارش کے بعد یخ بستہ ہوائو ں سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔شہر میں رات بھر تیز ٹھنڈی ہوائیں چلتی رہیں جس کے بعد شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا لیکن سردی 4 ڈگری سینٹی گریڈ کی محسوس کی جارہی ہے۔ادھر کوئٹہ میں بھی درجہ حرارت منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا جبکہ سردی منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی محسوس کی جارہی ہے۔ چمن میں درجہ حرارت منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سردی منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ کی محسوس کی جارہی ہے۔ کوئٹہ کی سرد ہواں کے باعث کراچی میں اتوار تک سردی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی