i پاکستان

معاشی استحکام، اصلاحات اور پالیسیوں کا تسلسل‘ ملک پائیدار طویل المدتی ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے‘ وفاقی وزیرخزانہتازترین

December 24, 2025

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے اور ملک پائیدار طویل المدتی ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے‘معاشی استحکام، اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے ملکی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال ہو رہا ہے‘پاکستان اپنی معاشی حکمت عملی کوعالمی طلب میں تبدیلیوں کیساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے، آئی ٹی برآمدات 4 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں، آئی ٹی برآمدات مناسب پالیسی تسلسل کیساتھ 5برسوں میں دوگنا ہو سکتی ہیں‘سمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔امریکی جریدے یو ایس اے ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا پاکستان ایک اہم معاشی موڑ پر پہنچ چکا ہے، معاشی استحکام، اصلاحات اورپالیسیوں کے تسلسل سے ملکی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال ہو رہا ہے، معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ملک پائیدار طویل المدتی ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے، پاکستان نے مالی سال کا آغاز بہتر معاشی بنیادوں کے ساتھ کیا ہے، پرائمری بجٹ سرپلس اور کرنٹ اکانٹ سرپلس حاصل کیا ہے، یہ مسلسل خساروں کے چکر سے نکلنے کی واضح علامت ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ اس بہتری کا اہم سبب بنا، مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ میں آ گئی ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، شرحِ مبادلہ میں استحکام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ان کا کہنا تھا معاشی استحکام ایک ضروری بنیاد ہے تاہم پائیدار ترقی اصل چیلنج ہے، گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد معاشی نمو مثبت ضرور ہے، معاشی نمو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، حکومت کھپت،قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل سے ہٹ کربرآمدات پرمبنی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات،انرجی سیکٹرمیں بہتری،سرکاری اداروں کی اصلاح،ٹیرف اصلاحات شامل ہیں، مقصددہائیوں پر محیط تحفظاتی نظام کا خاتمہ اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا پاکستان اپنی معاشی حکمتِ عملی کوعالمی طلب میں تبدیلیوں کیساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے، آئی ٹی برآمدات 4 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں، آئی ٹی برآمدات مناسب پالیسی تسلسل کیساتھ 5برسوں میں دوگنا ہو سکتی ہیں

برآمدکنندگان کے لیے ٹیکس نظام آسان بنانے، انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔وزیر خزانہ کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے لیے "ایسٹ ایشیا مومنٹ" کا تصور پیش کیا ہے جو برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔وزیر خزانہ نے خواتین کی تعلیم اور لیبر فورس میں شمولیت کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔انٹرویو میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ زراعت، معدنیات اور ڈیجیٹل معیشت سرمایہ کاری کے ترجیحی شعبے ہیں جبکہ ٹیتھیان کاپر بیلٹ عالمی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور بحرانوں سے نکل کر مواقع کی معیشت میں تبدیل ہو رہا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی