لاڑکانہ میں ہاتھ باندھے زندگی کی فریاد کرنے والے آٹھ بچوں کے باپ کو بے دردی کے ساتھ پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر سرعام قتل کردیا۔ رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں شہری کے قتل کی اندوہناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، فائرنگ کرنے والے اہلکار کو گرفتار کرکے معطل کردیا گیا ہے۔واقعہ پولیس مقابلہ تھا یا ماورائے عدالت قتل سچ سامنے لانے کے لئے ڈی آئی جی لاڑکانہ کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔پولیس نے دعوی کیا ہے کہ واقعہ 4 روز قبل شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے روز پیش آیا تھا جب قمبر شہدادکوٹ سے تعلق رکھنے والا ملزم لاڑکانہ آیا اور مبینہ فائرنگ کے دوران پولیس اہلکار زیب جتوئی زخمی ہوا جس کی اطلاع پر اس کا بھائی، پولیس اہلکار رضا جتوئی موقع پر پہنچا اور جذبات میں آ کر یہ کہہ کر نوجوان کو گولیاں مار دیں کہ ہمارے نوجوان کو کیوں مارا۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف جانب سے گولیاں چلیں واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر عوامی ردعمل کے بعد ایس ایس پی لاڑکانہ نے ملوث اہلکار کو معطل کرکے گرفتار اور ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، جبکہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور زخمی اہلکار کا علاج بھی جاری ہے۔
دوسری جانب لاڑکانہ میں 4 روز قبل پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے آٹھ بچوں کے والد علی گل کلہوڑو کے اہل خانہ نے واقعے کو کھلا ظلم قرار دیتے ہوئے ریاست سے انصاف کی دہائی دے دی ہے۔مقتول کی بڑی بیٹی صائمہ، چچا و پرائمری ٹیچر غلام مصطفی اور کمسن بیٹے نے روتے ہوئے بتایا کہ علی گل کلہوڑو نہ کسی سنگین جرم میں ملوث تھا اور نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی، علی گل کلہوڑو پیپلز پارٹی کا ورکر تھا وہ برسی کے موقع پر قمبر شہدادکوٹ سے لاڑکانہ گیا تھا اور فصل اترنے کے بعد بچوں کے لیے سردیوں کے گرم کپڑے خریدنے کی نیت سے ایک لاکھ روپے بھی ساتھ لے کر نکلا تھا، اس نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ برسی میں شرکت کے بعد خریداری کر کے واپس لوٹ آئے گا مگر وہ واپس نہ آ سکا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ علی گل کلہوڑو پر 2011 میں برادری کے جھگڑوں کے باعث ایک مقدمہ درج تھا، علی گل سعودی عرب اور دبئی میں مزدوری کرتا رہا اور دو سال قبل وطن واپس آیا، ان کے بقول وہ نہ تو کرمنل تھا اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث، پھر اسے کیوں مارا گیا؟۔ادھر پولیس کی جانب سے اسٹیٹ کی مدعیت میں درج مقدمے میں یہ مقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی گل کلہوڑو کو اپنے ہی ساتھی کی گولی لگی جس سے وہ زخمی ہوا مگر سب سے سنگین اور خوفناک سوال یہ ہے کہ اگر وہ پولیس کی تحویل میں تھا تو اسے ماورائے عدالت کیوں قتل کیا گیا؟۔مقتول کے بچوں نے لرزتی آواز میں ریاست سے اپیل کی ہے کہ ان کے والد کے قتل کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی