کراچی کے علاقے بلدیہ رئیس گوٹھ سے دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔حکام کے مطابق مقدمے میں انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔دہشتگردوں کی جانب سے ٹرک تیار کرنے کا مقصد شہر میں دہشت گردی کرنا تھا، چھاپے میں 2 ہزار کلو بارودی مواد، 30سے زائد ڈرم اور 5 سلنڈر قبضے میں لے لئے گئے۔حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد موقع پر گرفتار کیا گیا جس کی نشاندہی پر اس کے دیگر دو ساتھی بھی پکڑے گئے، گرفتار دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر گروپ سے ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے انکشاف کیا کہ بلدیہ رئیس گوٹھ سے گرفتار دہشت گرد کراچی میں اہم مقام پر شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا پورا نیٹ ورک بے نقاب کیا جائے گا۔
ادھر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سندھ غلام اظفر مہیسر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ گرفتار ملزمان نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد کو مختلف راستوں سے مختلف طریقوں سے اور مختلف اوقات میں بلوچستان سے خفیہ طور پر کراچی لایا۔غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ دہشت گردوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچائیں اور یہ پیغام دیں کہ کراچی غیر محفوظ ہے۔انہوں نے کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں، تمام بارودی مواد ریکور کر لیا ہے اور جن لوگوں نے خود کش دھماکے کرنے تھے انہیں بھی پکڑ لیا ہے، 24 گھنٹوںمیں مزید گرفتاریاں بھی ہو ں گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی