i پاکستان

قائد اعظم محمدعلی جناح کی 78 ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی ،گورنر ، وزیراعلی سندھ اور تینوں مسلح افواج کے نمائندوں کی مزار قائد پر حاضری دی،پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانیتازترین

September 11, 2026

بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی انتہائی عقیدت واحترام سے منائی گئی ۔برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد اور خود مختار وطن کی نعمت سے سرفراز کرنے والے عظیم قائد کو پورے ملک میں عقیدت و احترام سے یاد کیا جارہا ہے اور عزم کی تجدی کی گئی ۔بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم وفات کے موقع پر گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر حاضری دی۔گورنر اور وزیراعلی سندھ نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر صوبائی وزرا، مشیر، معاونین خصوصی اور ایڈیشنل آئی جی بھی ان کے ہمراہ تھے۔تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے بھی مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر گورنر نہال ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم کے یوم وفات پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے آئے ہیں۔ قائد اعظم نے اپنا چین، سکون، آرام اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر مملکت خداداد پر اپنا وقت صرف کیا، قائد اعظم نے ہمیں رہنما اصول بھی بتائے جس پر ہمیں چلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بسنے والے لوگ دنیا کی عظیم قوم بنے گی، ہم نے پاکستان کو متحد رکھنا ہے اور دنیا میں مثال بنانا ہے، پاکستان کے آئینی اور جمہوری نظام کو مضبوط کریں، آئیں عہد کریں کہ قائد اعظم کے خواب کی تعبیر کریں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ دھرنا دینا بنیادی حق ہے لیکن دھرنے سے مریض، عام لوگ اور طلبہ متاثر ہوں تو آپ خود فیصلہ کریں کہ یہ ٹھیک ہے۔

حکومت بھی چاہتی ہے کہ سہولیات عوام کو دی جائیں لیکن عالمی حالات کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس موقع پر وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ جو خواب علامہ اقبال نے دیکھا وہ پورا ہوا، اللہ پاکستان کو تاقیامت متحد رکھے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے برعکس لوگ تقسیم کی بات کر رہے ہیں، باہمی صلاح مشورے سے فیصلے لینے چاہئیں ۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی کو بولنے سے روک نہیں سکتے، سب اپنی رائے دیں لیکن اس وقت سب آئینی ماہر ہوگئے ہیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹ کی نئی اصطلاح آگئی ہے، بزنس فورمز 6 گھنٹے مباحثے کرتے ہیں اور چینل چلاتے ہیں لیکن اہمیت لوگوں کی ہے جو اپنی رائے کا اظہار اسمبلی کے ذریعے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صوبائی اسمبلی قومی اسمبلی کے قانون کو مسترد کر دے لیکن ہم نے بتا دیا ہے کہ دو تہائی اکثریت سے زیادہ لوگوں نے صوبے کی تقسیم کو مسترد کر دیا ہے، اگر باقی صوبے تقسیم چاہتے ہیں تو فیصلہ ان کی اسمبلی کرے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریبا سوا ماہ قبل کہا گیا کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے، بعد میں دیکھا تو سب تالیاں بھی بجا رہے تھے، سب سے زیادہ مراعات یافتہ سسٹم کولیپس کی بات کر رہا ہے۔ ہم آئین پر عمل کے پابند ہیں لیکن دو نظام نہیں ہوں گے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسائل ہیں، اس صوبے اور شہر کو مزید بہتر کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کچھ کر رہے ہیں یا نہیں، اس کا جواب لوگ دیتے ہیں اور 20 سال سے صوبہ پہلے سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ نشستیں لے کر حکومت بنا رہا ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قائداعظم محمد علی جناح کو ان کی عظیم جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائداعظم نے ایک ملت کو نظریہ، شعور اور خودمختار ریاست دی۔اپنے پیغام میں محسن نقوی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد آزادی ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہے، جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی سے نکال کر ایک خودمختار وطن کی منزل تک پہنچایا۔ قائداعظم کی بے مثال قیادت کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق قائداعظم کی شخصیت میں کردار کی بلندی، گفتار کی سچائی اور عمل کی یکسوئی کا ایسا امتزاج تھا جو تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، بیماری اور کمزوری کے باوجود ان کی ہمت اور استقلال نے قوم کو منزل سے ہمکنار کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ قائداعظم اقلیتوں کے حقوق کے بہت بڑے علمبردار تھے اور ریاست کو عوام کی امانت سمجھتے تھے۔

ایمان، اتحاد، تنظیم، یہی جناح کی اصل امانت ہیں اور یہی پاکستان کی روح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی قائداعظم کے اصولوں پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔یادرہے25دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح نے اپنی سیاسی بصیرت سے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا خواب سچ کر دکھایا، شدید علالت کے باوجود انہوں نے دن رات کام کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کو ملک کا پہلا دارالحکومت منتخب کیا۔بانی پاکستان قائد اعظم کی بے مثال قیادت، تدبر اور اصول پسندی کی بدولت دنیا کے نقشے پر پاکستان وجود میں آیا، قیام پاکستان کے محض 13 ماہ بعد 11 ستمبر 1948 کو عظیم قائد 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح کا دیا ہوا زریں اصول اتحاد، ایمان، اور تنظیم صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ موجودہ دور کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کا واحد حل ہے، آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے قائد کے نظریات پر صدقِ دل سے عمل کرنا ہوگا۔بابائے قوم کا پیغام ہمیں اتحاد اور محنت کی ہدایت کرتا ہے تاکہ پاکستان کو ایک باوقار اور مضبوط ریاست بنایا جا سکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی