i پاکستان

حکومت نے حیسکو اور کے الیکٹرک میں سوا 2 گھنٹے کی لوڈمینجمنٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان پاور ڈویژن کی وضاحتتازترین

April 15, 2026

ترجمان پاور ڈویژن نے وضاحت کی ہے کہ حکومت نے حیسکو اور کے الیکٹرک میں سوا 2 گھنٹے کی لوڈمینجمنٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنوب میں متبادل ذرائع سے سستی بجلی کا ریلیف عوام کو منتقل کیا جائے گا اور ان دونوں ڈسکوز میں لوڈمینجمنٹ نہ کرنے کی وجہ فرنس آئل پر کم انحصار ہے۔پیک آوورز اور ریلیف اسٹریٹجی کے حوالے سے ترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے جنوب میں دیگر ذرائع سے پیدا ہونیوالی وافر سستی بجلی موجود ہے جنوب میں پیدا ہونے والی سستی بجلی دونوں ڈسکوز کے اندر ہی استعمال ہو رہی ہے، سستی بجلی پیدا کرنے کے باعث صارفین کو بے جا تکلیف میں نہیں ڈالا جا رہا۔پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ حکومت کو اس وقت پیک آورز میں بجلی کی کھپت میں اضافے کا بڑا چیلنج درپیش ہے

اس صورتحال سے نمٹنے اور مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان روزانہ اوسطا سوا دو گھنٹے بجلی بند (لوڈ مینجمنٹ) کی جائے گی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر یہ لوڈ شیڈنگ نہ کی گئی تو بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے فی یونٹ تک مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر مقامی گیس کی فراہمی یقینی بنائی گئی جس سے فی یونٹ قیمت میں 80 پیسے اضافے کو روکا گیا۔ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر بروقت انتظامی اقدامات اور ترسیلی نظام میں بہتری نہ لائی جاتی تو بجلی کی قیمتوں میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم، فرنس آئل کا استعمال محدود کرنے کے باوجود صارفین کو 1.5 روپے فی یونٹ اضافے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ اگر کمرشل مارکیٹس کو وقت پر بند کر دیا جائے تو بجلی کی طلب میں کمی لا کر قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید روکا جا سکتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی