وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیر اور منظوری میں سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اپنے ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ عمارت کی منظوری 1983 میں میئر عبد الستار افغانی کے دور میں دی گئی جبکہ 1991 میں میئر ڈاکٹر فاروق ستار کے دور میں لیز کی تجدید ہوئی۔انہوں نے کہا کہ تمام بے ضابطگیاں 2003 میں ریگولرائز کی گئیں، اس وقت کے میئر نعمت اللہ خان تھے۔ تمام فیصلے اٹھارہویں ترمیم سے پہلے بلدیاتی اداروں نے کیے، معاملے کو سیاسی رنگ دینا حقائق مسخ کرنے کے مترادف ہے۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ساتھ جائو وید نبی کھوسو نے بتایا کہ گل پلازہ کو 90 فیصد تک کلیئر کردیا گیا ہے تاہم 10 سے11 افراد مسنگ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران عمارت کے ملبے سے 4 ڈی وی آر ملے ہیں جن کی مدد سے سانحے کی وجوہات جاننے میں اہم شواہد ملنے کا امکان ہے۔گل پلازہ کا ملبہ اٹھانے کے دوران ڈیڑھ کلو سونا بھی ملا جسے دکان مالک کے حوالے کر دیا گیا جبکہ تہہ خانے میں دکان سے ایک لاکھ روپے سے زائد رقم بھی ملی جو مالک کے حوالے کردی گئی۔ادھر پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق نے بھی بتایا کہ گل پلازہ سے اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات لائی گئی ہیں، ڈاکٹر سمیعہ طارق کا کہنا ہے لاشیں جل جانے کی وجہ سے ڈی این اے کا عمل پیچیدہ ہے۔
حکام کے مطابق اب تک جاں بحق افراد 71 افراد میں سے 20 لاشوں کی شناخت کرلی گئی، 13 کی شناخت ڈی این اے سے کی گئی، لاپتہ افرادکی فہرست میں 82 افراد کے نام شامل ہیں۔ سانحہ گل پلازہ کے آٹھویں روز بھی سرچ آپریشن جاری رہا ، اب تک تباہ شدہ عمارت میں تلاش کا عمل تقریبا 90 فی صد تلاش مکمل کر لیا گیا ہے۔اس آپریشن میں اربن سرچ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں شریک ہیں، سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہو گئی ہے، اور 15 سے زائد کی شناخت ہو سکی ہے، جب کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ واقعہ میں 77 افراد لاپتا ہوئے تھے۔ادھر گزشتہ رات گل پلازہ کے بیسمنٹ میں قائم دکان سے نقد رقم برآمد ہوئی، ریسکیو حکام کے مطابق ٹیم کو سرچنگ کے دوران ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم ملی، پلازہ سے برآمد کی گئی رقم مالک کے حوالے کر دی گئی۔ ادھر سانحے کے بعد ایک اور سانحہ یہ ہوا ہے کہ پلازہ میں لاپتہ آصف کے گھر چوری کی واردات ہو گئی ہے، لواحقین نے ویڈیو بیان میں کہا ہم کبھی ڈی سی آفس اور کبھی سرد خانے کے چکر لگانے میں مصروف تھے۔ ہم آصف کی تلاش میں مصروف تھے اور پیچھے گھر میں چوری ہو گئی۔ چور گھر میں رکھے طلائی زیورات لے کر فرار ہو گئے۔ تین دن گزر گئے اطلاع کے باوجود گارڈن پولیس نے کارروائی نہیں کی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی