i پاکستان

دادو،ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کیس کا فیصلہ، تمام ملزمان بریتازترین

March 30, 2026

سندھ کے علاقے دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ آ گیا، تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ام رباب چانڈیو کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے ہائی پروفائل قتل کیس کی 450 سماعتوں کے بعد عدالت نے کل فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کے پیش نظر سیشن جج دادو کے احکامات پر ضلع دادو میں دفعہ 144 نافذ کی گئی، دادو پولیس کی جانب سے 6 ڈی ایس پیز، 33 ایس ایچ اوز سمیت 700 پولیس اہلکار عدالت کے اندر اور مرکزی سڑکوں پر سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔عدالت کے اندر غیر متعلقہ افراد اور میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی، مدعی پرویز چانڈیو اور کیس کی پیروی کرنے والی ام رباب چانڈیو کو عدالت تک پہنچانے کے لیے بھی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے۔یاد رہے کہ 17 جنوری 2018 کو میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کو قتل کیا گیا تھا، اس وقت 4 ملزمان ذوالفقار، علی گوہر، مرتضی اور سکندر چانڈیو جیل میں ہیں جبکہ ایم پی اے سردار احمد چانڈیو، برہان خان چانڈیو، ستار چانڈیو اور اس وقت کے ایس ایچ او کریم چانڈیو ضمانت پر ہیں۔

دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کے جج حسن علی کلوڑ کی عدالت میں گواہوں کے بیانات اور دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا گیا اور تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ امِ رباب چانڈیو اس وقت شہ سرخیوں میں آئیں جب وہ تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاں دادو کی مقامی عدالت آئی تھیں۔اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔عدالتی فیصلہ کے بعد ام رباب چانڈیو نے کہا کہ میرے والد، چچا اور دادا کے قتل کیس میں سب کو بری کر دیا گیا، عدالت نے مایوس کیا ہے، فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ام رباب چانڈیو کے وکیل صلاح الدین چانڈیو نے کہا کہ تمام شواہد موجود تھے دادو کی عدالت کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی