وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہاہے کہ چیئرمین اوگرا کا عہدہ مارچ یا اپریل سے خالی ہے تاہم اس کا سربراہ کسی بیورو کریٹ کو نہیں ہونا چاہیے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے میری سربراہی میں اوگرا کی ایک سرچ کمیٹی بنائی تھی، کمیٹی نے 10 امیدواروں کے انٹرویوز کئے ، کمیٹی کا فیصلہ تھا ان لوگوں میں چیئرمین اوگرا بننے کیلئے صلاحیت ہی نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین اوگرا کیلئے انٹرنیشنل لیول کی نامور شخصیت کو لانا ہوگا سفارش وزیراعظم کو بھیجی ہے، اوگرا، نیپرا، اسٹیٹ بینک، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹک ٹھیک کردیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ چیئرمین اوگرا مجھے رپورٹ نہیں کرتا یہ کابینہ ڈویژن کا حصہ ہے اسے آزاد ہونا چاہیے، ملک کے مسائل حل کرنے ہیں تو اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا جس کیلئے درست انسان کا چنائو ضروری ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی