قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ بنگلادیش میں والہانہ استقبال ہوا، ہم نے مسلسل پاکستان زندہ باد، آئی لو پاکستان کے نعرے سنے،بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو خوب اندازہ تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں معلوم تھا کہ یہ سب رپورٹ ہوگا، مجھے حکومت کی جانب سے بھی کوئی ہدایت نہیں تھیں اور خود بھی اس ملاقات کی توقع نہیں کر رہاتھا۔ایک انٹرویو میں سردار ایاز صادق نے بتایا کہ وہ ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے کہ اچانک بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ ہائی کمشنر صاحب سے بات کر رہے تھے اور جے شنکر بالکل ان کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ جے شنکر نے ہیلو کہا اور انہوں نے مڑ کر دیکھا۔ ایاز صادق نے مزید کہا کہ جیسے ہی وہ کھڑے ہوئے، وزیر خارجہ نے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ وہ انہیں جانتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مجھے آئیڈیا تھا کہ وہ آ رہے ہیں، میں نے مڑ کر دیکھا، میں پھر کھڑا ہوگیا، تو انہوں نے اپنا تعارف کرایا، میں نے کہا آپ کیسے ہیں؟ اور اپنا تعارف کرانا چاہا تو انہوں نے کہا میں آپ کو جانتا ہوں۔
ایاز صادق نے مزید بتایا کہ جے شنکر نے ہائی کمشنر سے بھی ہاتھ ملا یا اور تصاویر لینے کے لیے کیمرا ٹیم ساتھ لائی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ جے شنکر کو خوب اندازہ تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں معلوم تھا کہ یہ سب رپورٹ ہوگا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ مجھے حکومت کی جانب سے بھی کوئی ہدایت نہیں تھیں اور وہ خود بھی اس ملاقات کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھاکہ جنازہ گاہ کی طرف جاتے ہوئے ہماری گاڑی پر پاکستان کا جھنڈا لگا ہوا تھا اور لوگ جھنڈا دیکھ کر ہاتھ ہلاتے رہے۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے گاڑی کا شیشہ کھولنے سے منع کیا تھا لیکن میں نے شیشہ نیچے کیا تو وہاں لوگ کیمرے لیکر آگئے اور تصاویر کھینچنا شروع کردیں۔ان کا کہنا تھاکہ لوگ ہاتھ ملانے لگے ان کو نہیں پتا میں کون ہوں لیکن یہ ضرور پتا تھا کہ پاکستان کا نمائندہ ہوں، وہ ہاتھ ملاتے اور دور سے سلام کرتے رہے، پولیس ان کو دور کرتی تھی وہ پھر آگے آجاتے تھے۔ایاز صادق کا کہناتھاکہ ہم نے پاکستان زندہ باد اور آئی لو پاکستان کے نعرے مسلسل سنے، بنگلادیش میں والہانہ استقبال ہوا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی