راولپنڈی میں ڈاکٹروں اورنمائندہ تنظیموں نے متفقہ طورپر ڈاکٹروں کے کلینکس اور اسپتالوں میں پی او ایس سسٹم کی تنصیب کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں اسپتالوں اور طبی مراکز کی جسمانی نگرانی قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ یہ ڈاکٹروں کے وقار، عزت اور پیشہ ورانہ آزادی کے منافی ہے۔راولپنڈی میں پی ایم اے راولپنڈی ڈویژن ، ڈاکٹروں کے تمام نمائندہ تنظیموں اور بڑی تعداد میں معالجین کا بھرپور کنونشن منعقد ہوا، جس میں نجی و سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے بھرپور شرکت کی۔ کنونشن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے ڈاکٹروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی اور تضحیک آمیز رویے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کنونشن کے شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے ٹیکس گوشواروں کا ازخود جائزہ لینے اور قانونی تقاضوں کے مطابق اصلاح پر آمادہ ہیں، تاہم کسی بھی قسم کی زبردستی، دبا یا جبر کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
پنجاب کے صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ڈاکٹر کامران سعید نے شرکا کو ایف بی آر کے چیئرمین اور وفاقی وزیرِ خزانہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور مذاکرات میں سامنے آنے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔کنونشن کے اختتام پر تمام ڈاکٹروں اور تنظیموں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں نجی شعبے کے تمام طبی اداروں کی مکمل بندش سمیت سخت اقدامات پر مجبور ہونا پڑے گا۔آخر میں شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈاکٹروں کی عزت، وقار اور پیشہ ورانہ خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اس مقصد کے لئے ہر آئینی و جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی