امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کی قیمت پاکستانی عوام نے اپنے خون سے ادا کی ہے، پاکستانی قیادت اور عوام دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،مسائل کا سفارتی حل پاکستان کی ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے، پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت محض اختیاری یا وقتی نہیں بلکہ ان تعلقات کی پائیداری مستقبل کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ان خیالات کااظہار سفیر پاکستان نے امریکا کے معروف تھنک ٹینک کے ممبران سے ملاقات میں کیا ، جس میں امریکا کے فکری حلقوں کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔ملاقات کے دوران پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ سفیر پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر امریکی فکری برادری کے سامنے پیش کیا۔اس موقع پر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ 2025 پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے اہم تبدیلیوں کا سال تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین بہتر تعلقات کی نوعیت محض اختیاری یا وقتی نہیں بلکہ ان تعلقات کی پائیداری مستقبل کی ایک اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے تناظر میں پاکستان نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے ۔
دونوں ملکوں کی شراکت داری نہ صرف باہمی مفادات کے حصول بلکہ عالمی امن کے حوالے سے بھی نتیجہ خیز رہی ہے۔سفیر پاکستان نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت رجحانات کا سہرا دونوں ملکوں کی اعلی قیادت کے سر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان منافع بخش معاشی روابط کے قیام کے ضمن میں بھرپور اور طویل مدتی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ معدنیات، توانائی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبہ جات میں تعاون کے فروغ کے عزم نے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت عطا کی ہے۔رضوان سعید شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی 65 فیصد سے زائد نوجوان آبادی امریکا اور دنیا بھر میں انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے سلسلے میں کلیدی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم لاگت اور بہتر معیار کے حوالے سے پاکستان خطے کے دوسرے ممالک پر مسابقتی برتری کا حامل ہے، جس سے امریکی سرمایہ کاروں اور پیداواری شعبے کو بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ملاقات کے دوران سفیر پاکستان نے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے اثرات اور پاکستان کی جانب سے تعمیری و مثبت کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کی قیمت پاکستانی عوام نے اپنے خون سے ادا کی ہے، تاہم پاکستانی قیادت اور عوام دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ اپنے عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی کوشش اور قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا سفارتی حل پاکستان کی ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے۔رضوان سعید شیخ نے مئی 2025 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کیا کہ سالمیت اور قومی وقار کے حوالے سے پاکستان کو کسی طور مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں بھارتی جارحیت نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ کشمیری عوام اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نہ صرف علاقائی اور عالمی امن بلکہ خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔سفیر پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیے جانے کو کھلی لاقانونیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی غیر قانونی اور خطرناک روش کا نوٹس لیا جائے۔ملاقات کے اختتام پر امریکی اہلِ فکر کی جانب سے پاکستان کی خارجہ حکمت عملی، عالمی سیاست ، امن کے ضمن میں مثبت کردار، پختہ اور کامیاب سفارت کاری کی تعریف کی گئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی