i بین اقوامی

سعودی عرب اور امریکہ نے جوہری توانائی کے معاہدے پر دستخط کر دئیے،سعودی وزیر توانائیتازترین

July 23, 2026

سعودی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ نے جوہری توانائی کے پر امن استعمالکیلئے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔سعودی خبررساںادارے ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا یہ معاہدہ دونوں دوست ملکوں کے درمیان تاریخی سٹریٹیجک شراکت داری کے فریم ورک میں آتا ہے، یہ پیش رفت گزشتہ سال نومبر میں دورہ امریکہ کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے جوہری توانائی سے متعلق دو طرفہ مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔یہ معاہدے جسے 123 معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے واشنگٹن کے لئے کسی دوسرے ملک کے ساتھ جوہری تعاون میں شمولیت کے لئے ضروری ہے اس پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے باضابطہ طور پر دستخط کیے۔ اسے ٹرمپ انتظامیہ نے (بائیلٹرل سیف گارڈ ایگریمنٹ )قرار دیا۔سعودی وزارت نے بیان میں کہا اس معاہدے کا مقصد جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینا ہے۔مہارت، نالج اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو آسان بنانے کے ساتھ اس کا مقصد ایٹمی سیفٹی، ایٹمی سکیورٹی اور عدم پھیلائو کے لیے اعلی ترین بین الاقوامی معیارات کو یقینی بنانے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالتا بھی ہے۔

یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور پائیدار ترقی کی سپورٹ کے لئے دونوں ملکوں کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔کراس رائٹ نے ایک بیان میں کہا یہ معاہدے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے، اپنے ملک خوشحالی اور اپنے اتحادیوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے دونوں اقوام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مملکت کو اپنے سویلین جوہری پروگرام کے لیے یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہونے کا امکان ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ 30 سال کے لیے ہوگا اور اس میں امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سویلین جوہری پروگرام کی ترقی میں حصہ لیں گی۔معاہدے کے تحت مشترکہ امریکی، سعودی تکنیکی مطالعے کے بعد سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب قائم کرنے کی بھی اجازت دی جا سکتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی