i بین اقوامی

پینٹاگون کی فہرست سے ایران جنگ میں ہلاک 4 امریکی فوجی غائبتازترین

July 27, 2026

امریکی میڈیانے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ لڑائی کے دوران ہلاک ہونیوالے چار امریکی فوجیوں کے نام اب پینٹاگون کی سرکاری جنگی ہلاکتوں کی فہرست میں شامل نہیں رہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ مطابق ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم، جسے جنگ میں ہلاک اور زخمی فوجیوں کے سرکاری اعداد و شمار کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اس نے گزشتہ ہفتے ان چار فوجیوں اور درجنوں زخمی اہلکاروں کو جنگی ہلاکتوں اور زخمیوں کی فہرست سے ہٹا دیا۔ رپورٹ کے مطابق بعد ازاں اسی نظام میں اوورسیز آپریشنز کے نام سے ایک نئی کیٹیگری شامل کی گئی، جس میں ان چار امریکی فوجیوں کے نام درج کیے گئے ہیں۔ اسی نئی فہرست میں 207 زخمی اہلکاروں کا بھی ذکر موجود ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 207 زخمی اہلکاروں میں سے تمام افراد ایران سے متعلق حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران زخمی ہوئے تھے یا ان میں دیگر بیرونِ ملک فوجی آپریشنز کے متاثرین بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے اس تبدیلی کی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جنگی ہلاکتوں اور زخمیوں کے سرکاری اعداد و شمار کو نئی درجہ بندی میں کیوں منتقل کیا گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی نقصانات کی سرکاری درجہ بندی میں ایسی تبدیلیاں شفافیت اور عوامی اعتماد کے حوالے سے اہم بحث کو جنم دے سکتی ہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطی میں امریکا کی فوجی سرگرمیوں پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ تاحال امریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس نئی کیٹیگری کے اعداد و شمار کو اگر آپریشن آپریشن ایپک فیوری کے تازہ ڈیٹا کے ساتھ یکجا کیا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 624 زخمی ہو چکے ہیں۔

زخمیوں کی یہ تعداد اس سے قبل کی بند ترین تعداد 482 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں 11 کا تعلق آرمی، 6 کا تعلق ائیرفورس اور ایک کا تعلق نیوی سے ہے۔اعداد و شمار کے مطابق زخمی اہلکاروں میں سے 461 کا تعلق آرمی، 86 کا تعلق نیوی، 19 کا تعلق میرینز اور 58 کا تعلق ائیرفورس سے ہے۔گزشتہ ہفتے میڈیا اداروں اور قانون سازوں نے پینٹاگون کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب ایرانی حملوں کے تسلسل کے باوجود DCAS میں ہلاک اور زخمیوں کی تعداد کم دکھائی گئی تھی۔نئی متعارف کرائی گئی اوورسیز آپریشنز کیٹیگری میں 7 جولائی کے بعد کے نقصانات شامل کیے گئے ہیں، تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ہلاکتیں اور زخمی کس مخصوص تنازع یا جنگ سے متعلق ہیں۔ تاہم اس کیٹیگری میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام شامل ہیں، جن میں اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں مارے جانے والے 3 امریکی فوجی اور گزشتہ ہفتے شمالی عراق میں ایرانی ڈرون ناکارہ بنانے کے دوران ہلاک ہونے والا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی