امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کے آپشن پر غور جاری ہے، ٹرمپ کے جنگ بڑھانے کے فیصلے کی صورت میں اسرائیل کی شمولیت کا امکان ہے۔فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے تہران کے قریب یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا، بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع ہوا تویہ پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے، مشرق وسطی میں مزید فوجی طیاروں کی تعیناتی،حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی واپسی موجودہ حملوں سے زیادہ شدید ہوگی۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا ہیکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت تک ایران پر حملے جاری رہیں گے اور تہران تعاون کرے یا نہ کرے، آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل نہیں رکنے دی جائے گی۔فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی وزیرِتوانائی کاکہناتھا کہ صدرٹرمپ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں،اگر ایران مذاکرات کیلئے تیارہوجائے تو جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی