i بین اقوامی

کروڑوں افراد ذاتی آڈیو ڈیوائسز کی وجہ سے قبل از وقت سماعتی کمزوری کے خطرے سے دوچارتازترین

July 17, 2026

سماعت انسان کی ان قیمتی نعمتوں میں سے ایک ہے جس کی اہمیت کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب یہ متاثر ہونا شروع ہو جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار سماعت کمزور ہو جائے تو اسے قدرتی طور پر واپس لانا ممکن نہیں ہوتا اس لیے ابتدائی عمر سے ہی کانوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔امریکا میں کلیولینڈ کلینک سے وابستہ آڈیولوجسٹ ڈاکٹر ویلیری پاولووچ رف کے مطابق جسم کے دیگر اعضا کی طرح کانوں کے اندر موجود ننھے حسی خلیات (ہیئر سیلز) اگر شور یا دیگر وجوہات سے خراب ہو جائیں تو عموما دوبارہ نہیں بنتے جس کی وجہ سے سماعت مستقل متاثر ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق آج کل سماعت کی کمزوری صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوانوں، نوعمر بچوں اور یہاں تک کہ 10 سال سے کم عمر بچوں میں بھی اس کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔کان کے اندر موجود ایک حصے کوکلیا میں ہزاروں ننھے خلیات ہوتے ہیں جن پر باریک بال نما ساختیں موجود ہوتی ہیں۔ جب آواز کی لہریں کان تک پہنچتی ہیں تو یہ ننھے بال حرکت کرتے ہیں اور برقی سگنلز دماغ تک پہنچاتے ہیں جنہیں دماغ آواز کی صورت میں سمجھتا ہے۔

بہت زیادہ یا مسلسل تیز آواز ان باریک خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور یہی نقصان مستقل سماعتی کمزوری کی وجہ بنتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر میوزک کنسرٹس میں آواز محفوظ حد سے کہیں زیادہ بلند ہوتی ہے اور صرف 10 سے 15 منٹ تک ایسی آواز میں رہنا بھی اندرونی کان کو نقصان پہنچانا شروع کر سکتا ہے۔اسی لیے کنسرٹ یا اسٹیڈیم میں عام فوم والے ایئر پلگ کے بجائے ہائی فِڈیلیٹی ایئر پلگ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو آواز کو کم تو کرتے ہیں لیکن اس کا معیار خراب نہیں کرتے۔روزانہ زیادہ آواز میں ہیڈ فون استعمال کرنا بھی سماعت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہیڈ فون پہننے کے دوران قریب کھڑا شخص عام آواز میں بات کرے اور آپ اسے سن سکیں تو آواز محفوظ حد میں ہے لیکن اگر وہ چیخ کر بات کرے تب بھی آواز نہ سنائی دے تو والیوم بہت زیادہ ہے۔تحقیقی اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 35 سال سے کم عمر تقریبا 1.35 ارب افراد ذاتی آڈیو ڈیوائسز کی وجہ سے قبل از وقت سماعتی کمزوری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی