i بین اقوامی

حوثیوں کی مطالبات نہ مانے جانے پر سعودی عرب کیلئے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکیتازترین

July 07, 2026

یمن کے حوثی گروپ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یمنی بندرگاہوں پر بحری ٹریفک سے متعلق عائد پابندیاں اور رکاوٹیں ختم نہ کی گئیں تو سعودی بحری جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر دی جائے گی۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کو ایک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یمنی بندرگاہوں پر بحری نقل و حمل میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر ختم کی جائیں تاکہ تجارتی اور انسانی امدادی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔حوثی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو سعودی عرب سے وابستہ بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس اقدام کو یمن پر عائد بحری پابندیوں کے جواب میں ضروری سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے۔ اس راستے سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل، گیس اور تجارتی سامان دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اس اہم بحری راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور شپنگ انڈسٹری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔تاحال سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کی اس تازہ دھمکی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی