i بین اقوامی

برطانوی وزیراعظم کا بجلی کے بلوں پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کرنے کا اعلانتازترین

July 21, 2026

برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے بڑے عوامی ریلیف پیکیج کے تحت گھریلو بجلی کے بلوں پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی )ختم کرنے کا اعلان کردیا۔برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یکم اکتوبر 2026 سے گھریلو بجلی کے بلوں پر عائد 5 فیصد وے اے ٹی ختم کرکے اسے صفر فیصد کردیا جائے گا۔ اس اقدام کا اطلاق آئندہ آف جیم پرائس کیپ کے نفاذ سے قبل ہوگا تاکہ صارفین کو فوری ریلیف مل سکے۔ حکومتی بیان کے مطابق اس فیصلے سے اوسط صارف کے سالانہ بجلی کے بل میں تقریبا 45 پائو نڈ تک کمی متوقع ہے، جو گزشتہ بجٹ میں فراہم کئے گئے 150 پائو نڈ کے ریلیف کے علاوہ ہوگی۔وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، تاہم نئی حکومت کا مقصد عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کرکے نہ صرف لوگوں کی جیب پر بوجھ کم ہوگا بلکہ معیشت میں اعتماد بھی بحال ہوگا اور عوام کو مستقبل کے حوالے سے امید ملے گی۔

برطانیہ کے وزیر خزانہ جان ہیلی نے کہا کہ حکومت اس مالی سال کے دوران اس اقدام کے اخراجات ڈیجیٹل آئی ڈی پروگرام منسوخ کرکے پورے کرے گی، جس پر آئندہ تین برسوں میں تقریبا ایک ارب 80 کروڑ پائونڈ خرچ ہونا تھا۔حکومت کے مطابق اس اقدام پر رواں مالی سال کے دوران تقریبا 85 کروڑ پائو نڈ لاگت آئے گی، جبکہ آئندہ برسوں کے لیے مزید مالی اقدامات کا اعلان بجٹ میں کیا جائے گا اور تمام فیصلے حکومتی مالیاتی اصولوں کے مطابق ہوں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ تمام توانائی فراہم کرنے والی کمپنیاں وی اے ٹی میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل کریں گی، جن میں فکسڈ ٹیرف استعمال کرنے والے صارفین بھی شامل ہوں گے۔حکام کے مطابق گھریلو نرخوں پر بجلی استعمال کرنے والے بعض چھوٹے کاروبار، خیراتی ادارے اور رہائشی نگہداشت کے مراکز بھی اس ریلیف سے مستفید ہوں گے۔برطانوی حکومت نے مزید کہا کہ روس یوکرین جنگ اور ایران میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات بڑھا دیے ہیں، اسی لیے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔شمالی آئرلینڈ کے لیے بھی مساوی مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہاں کے شہری بھی اس سہولت سے یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی