آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے بعد اب ایران نے دنیا کو اپنا سب سے خطرناک ہتھیار دکھانے کا اشارہ دے دیا ہے، جس کے تحت وہ یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم راستے باب المندب کو بھی بند کر سکتا ہے۔اس اقدام سے واشنگٹن کے خلاف ایک نیا محاذ کھل جائے گا اور دنیا کی دو سب سے اہم تجارتی اور توانائی کی شریانیں شدید خطرے میں پڑ جائیں گی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایران کے اندر امریکی حملے تیز ہو رہے ہیں اور دوسری طرف حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تہران اس جنگ کا دائرہ کار وسیع کر کے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ واشنگٹن پر دبائو بڑھایا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی