امریکی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم کے حصص میں 58 سال کی بدترین گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریبا 70 ارب ڈالر تک کم ہو گئی ہے۔ کمپنی کے مایوس کن سہ ماہی مالی نتائج، مصنوعی ذہانت کی دوڑ اور سائبر سیکیورٹی پر بڑھتے اخراجات اس بڑی گراوٹ کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔امریکی ٹیکنالوجی کمپنی انٹرنیشنل بزنس مشینز(آئی بی ایم)کے حصص 25 فیصد تک گر گئے، جو گزشتہ 58 برسوں میں کمپنی کی بدترین ایک روزہ اسٹاک گراوٹ قرار دی جا رہی ہے۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اس تاریخی مندی کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ایک ہی دن میں تقریبا 67 سے 70 ارب ڈالر تک کم ہو گئی۔1911
میں قائم ہونے والی آئی بی ایم نے بتایا کہ جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران اس کی آمدنی صرف ایک فیصد اضافے کے ساتھ 17.2 ارب ڈالر رہی، جو سرمایہ کاروں کی توقعات سے کم تھی۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اروند کرشنا نے سرمایہ کاروں کے نام خط میں اعتراف کیا کہ کمپنی مطلوبہ رفتار سے خود کو بدلنے میں ناکام رہی۔انہوں نے لکھا، ہم سے کوتاہی ہوئی اور ہم حالات کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سرورز، میموری چپس اور اسٹوریج ڈیوائسز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے باعث ان کی قیمتیں بڑھ گئیں اور سپلائی بھی محدود ہو گئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی