i آئی این پی ویلتھ پی کے

گلگت بلتستان میں نایاب معدنیات کی تلاش کے منصوبے کی منظوری، درآمدی انحصار کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت،ویلتھ پاکستانتازترین

June 08, 2026

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور اہم معدنیات کی تلاش، افزودگی اور نکاسی کے لئے 94 کروڑ 99 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق اس منصوبے سے معدنی شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی اور ملک کا درآمدی اسٹریٹجک معدنیات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔دو سالہ منصوبہ 2026 سے 2028 تک جاری رہے گا اور اسے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق نافذ کرے گی۔ منصوبے کی تمام سرگرمیاں سکردو میں قائم ادارے کی تجربہ گاہوں میں انجام دی جائیں گی۔منصوبے کے تحت معدنی وسائل کی نشاندہی، ارضیاتی مطالعات، معدنیات نکالنے اور پراسیسنگ کے جدید طریقوں کی ترقی اور نایاب زمینی عناصر سے وابستہ توانائی ذخیرہ کرنے والے مواد میں جدت لانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔دستاویز کے مطابق اہم معدنیات کی شناخت اور پراسیسنگ کے لیے جدید تجزیاتی نظام، معدنی افزودگی کے کارخانے اور جدید پیسنے والی مشینری استعمال کی جائے گی جس سے معدنی وسائل کی مثر دریافت اور بہتر استعمال ممکن ہوگا۔

حکومتی اندازوں کے مطابق منصوبے سے مقامی سطح پر معدنیات کی تیاری، قدر میں اضافہ، معدنی تلاش کی استعداد میں بہتری اور درآمدی متبادل کی فراہمی جیسے اہم معاشی و صنعتی فوائد حاصل ہوں گے۔گلگت بلتستان نایاب زمینی عناصر اور قیمتی دھاتوں کے قابلِ ذکر ذخائر کا حامل خطہ ہے۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی کے نظام، برقی گاڑیوں اور دفاعی صنعتوں میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور عالمی سطح پر ان کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اہم معدنیات کی عالمی طلب میں تیز رفتار اضافے کے پیش نظر یہ منصوبہ پاکستان کو خطے میں اسٹریٹجک معدنیات کے شعبے کا اہم ملک بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کی کامیاب تکمیل نہ صرف معدنی شعبے کی ترقی کو تیز کرے گی بلکہ صنعتی خودکفالت، برآمدی امکانات اور قومی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک