i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان میں ٹریکٹروں کی تعداد میں 146 فیصد اضافہ، زرعی مشینی نظام میں نمایاں پیش رفت،ویلتھ پاکستانتازترین

July 16, 2026

پاکستان میں 2004 سے 2024 کے دوران ٹریکٹروں کی تعداد میں 146 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو زرعی شعبے میں مشینی نظام کے فروغ کی واضح علامت ہے۔ تاہم ملک میں زرعی مشینری کا زیادہ تر حصہ اب بھی پنجاب میں مرکوز ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کی زرعی مردم شماری 2024 کی قومی رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹریکٹروں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ ایک ہزار 663 سے بڑھ کر 9 لاکھ 86 ہزار 998 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق 1994 میں ٹریکٹروں کی تعداد 2 لاکھ 52 ہزار 861 تھی جو 1994 سے 2004 کے دوران 59 فیصد اور 2004 سے 2024 کے درمیان 146 فیصد بڑھ گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹریکٹر زمین کی تیاری، بروقت بوائی، برداشت کے مراحل اور مجموعی زرعی کارکردگی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹریکٹروں کی تعداد میں اضافہ کسانوں کو مزدوروں کی کمی پر قابو پانے، زرعی کام بروقت مکمل کرنے اور کاشتکاری کو زیادہ مثر بنانے میں مدد دیتا ہے۔صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 7 لاکھ 77 ہزار 404 ٹریکٹر موجود ہیں جو ملک کی مجموعی تعداد کا 78.8 فیصد بنتے ہیں۔ سندھ میں 85 ہزار 895، خیبر پختونخوا میں 61 ہزار 113، بلوچستان میں 61 ہزار 368 جبکہ اسلام آباد میں 1 ہزار 217 ٹریکٹر ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1994 اور 2004 کی زرعی مشینری مردم شماری کے دوران اسلام آباد کو پنجاب کا حصہ شمار کیا جاتا تھا۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ زرعی مشینی نظام پورے ملک میں فروغ پا رہا ہے لیکن اس تک رسائی تمام صوبوں میں یکساں نہیں۔

پنجاب میں زیادہ زیرِ کاشت رقبہ، مضبوط زرعی مشینری کی منڈی اور نسبتا جدید زرعی نظام کے باعث ٹریکٹروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ دیگر صوبوں میں کم تعداد بروقت زرعی کاموں اور مشینی خدمات کی دستیابی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔طویل المدتی بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ بلوچستان میں دیکھا گیا جہاں ٹریکٹروں کی تعداد 9 ہزار 244 سے بڑھ کر 61 ہزار 368 ہو گئی، یعنی 564 فیصد اضافہ ہوا۔ خیبر پختونخوا میں 152 فیصد، سندھ میں 137 فیصد اور پنجاب میں 134 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ملک میں موجود 9 لاکھ 86 ہزار 998 ٹریکٹروں میں سے 7 لاکھ 78 ہزار 501 انفرادی ملکیت، 2 لاکھ 7 ہزار 92 مشترکہ ملکیت جبکہ 1 ہزار 404 کوآپریٹو سوسائٹیوں کی ملکیت ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انفرادی ملکیت اب بھی غالب ہے تاہم کئی علاقوں میں کسان مشینری کے اخراجات کم کرنے کے لیے مشترکہ ملکیت کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔برانڈز کے لحاظ سے میسی فرگوسن سب سے آگے رہا جس کے 5 لاکھ 19 ہزار 653 ٹریکٹر ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد فیئٹ کے 3 لاکھ 43 ہزار 669، بیلاروس کے 44 ہزار 481، نیو ہالینڈ کے 30 ہزار 665، فورڈ کے 17 ہزار 952، آئی ایم ٹی کے 3 ہزار 393 جبکہ دیگر برانڈز کے 27 ہزار 183 ٹریکٹر شمار کیے گئے۔

رپورٹ میں دیگر زرعی مشینری میں بھی نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کلٹیویٹرز کی تعداد 161 فیصد بڑھ کر 9 لاکھ 66 ہزار 547 ہو گئی، روٹاویٹرز میں 279 فیصد جبکہ چیزل ہل میں 837 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب ڈسک ہل کی تعداد میں 103 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ڈسک ہیرو اور رجر کی تعداد میں بالترتیب 28 فیصد اور 24 فیصد کمی آئی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زرعی مشینی نظام میں نمایاں ترقی ضرور ہوئی ہے لیکن اس کے ثمرات تمام علاقوں تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے۔ ماہرین کے نزدیک آئندہ مرحلے میں صرف ٹریکٹروں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ چھوٹے اور بکھرے ہوئے زرعی رقبوں کے مالک کسانوں کو مناسب لاگت پر مشینی خدمات، قرضوں اور ضروری سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہو، تاکہ زرعی پیداوار میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک