i آئی این پی ویلتھ پی کے

عالمی قیمتوں میں اضافے اور رسد میں رکاوٹوں کے باعث مقامی کھاد ساز اداروں کے لئے پیداوار بڑھانے اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے امکانات روشن،ویلتھ پاکستانتازترین

June 08, 2026

عالمی سطح پر کھاد کی متوقع قلت اور قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے پاکستان کی مقامی کھاد صنعت کے لئے نئے مواقع پیدا کر دئیے ہیں۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں گیس کی مسلسل فراہمی، بندرگاہی سرگرمیوں کی مثر نگرانی اور خام مال کی بلا تعطل درآمد یقینی بنائی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکتا ہے بلکہ خطے میں کھاد کی قابلِ اعتماد فراہمی کرنے والے ملک کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔عالمی بینک کی اپریل 2026 کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کھاد کی عالمی قیمتوں کے اشاریے میں 12 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مارچ 2026 میں قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2026 کے دوران کھاد کے قیمت اشاریے میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے جس کی بنیادی وجوہات نائٹروجن اور فاسفیٹ پر مبنی کھادوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی طلب میں مسلسل بڑھوتری ہیں۔ صرف یوریا کی قیمت میں ہی رواں سال تقریبا 60 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا تعلق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں سے بھی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق امونیا کی تیاری کی لاگت کا 80 سے 90 فیصد حصہ قدرتی گیس پر مشتمل ہوتا ہے جس کے باعث یوریا کی قیمتیں گیس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھا سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔زرعی منڈی معلوماتی نظام کی اپریل 2026 کی رپورٹ میں بھی نائٹروجن اور فاسفیٹ کھادوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں پر دبا کو عالمی رسد میں خلل کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ اس کی نسبتا مضبوط یوریا پیداوار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں یوریا کی سالانہ طلب 65 سے 70 لاکھ ٹن کے درمیان ہے جبکہ ملکی پیداواری صلاحیت تقریبا 70 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ حکومت نے خریف 2026 کے لیے یوریا اور فاسفیٹ کھاد کی تسلی بخش دستیابی کی توقع ظاہر کی ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اب بھی فاسفیٹ کھاد کے شعبے میں درآمدات پر نمایاں حد تک انحصار کرتا ہے۔ ملکی سطح پر فاسفیٹ کھاد کی پیداوار تقریبا ساڑھے سات لاکھ ٹن سالانہ ہے جبکہ مجموعی ضرورت 13 لاکھ سے 23 لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے۔اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا موجودہ پیداواری اور ترسیلی نظام ان ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن رکھتا ہے جو تقریبا مکمل طور پر درآمدی کھاد پر انحصار کرتے ہیں۔مسابقتی کمیشن پاکستان کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ملک کی کھاد صنعت پر فوجی، اینگرو اور فاطمہ گروپ کا غلبہ ہے جبکہ یوریا اور فاسفیٹ کھاد کسانوں کی جانب سے سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اقسام ہیں۔فاطمہ گروپ کے ایک سینئر صنعتی مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ پاکستان کے لیے فوری موقع برآمدات بڑھانے سے زیادہ درآمدی متبادل پیدا کرنے میں ہے۔

ان کے مطابق مقامی ادارے روایتی یوریا کے علاوہ دیگر اقسام کی کھاد تیار کرنے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔صنعتی حلقوں کے مطابق گیس کی مسلسل فراہمی کھاد کی صنعت کی مکمل پیداواری استعداد برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم عنصر ہے۔ اگر کارخانے بلا تعطل چلتے رہے تو ملک مہنگی درآمدی یوریا پر انحصار کم کر سکتا ہے اور کسانوں کو نسبتا مستحکم قیمتوں پر کھاد فراہم کی جا سکتی ہے۔اینگرو فرٹیلائزرز کے زونل سیلز منیجر محمد کاشف نے کہا کہ بڑے پیمانے پر برآمدات پر توجہ دینے سے پہلے ملک کے اندر کھاد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ربیع اور خریف کے دوران سالانہ تقریبا 22 سے 23 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشتکاری ہوتی ہے جس کے لیے گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی اہم فصلوں کو بروقت کھاد کی فراہمی ناگزیر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کا علاقائی کردار مثر رسد، مضبوط ترسیلی نظام اور مناسب ذخائر برقرار رکھنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ اگر مقامی صنعت موسمی قلت سے بچنے اور مسلسل فراہمی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو پاکستان بتدریج خطے میں کھاد کی پیداوار اور فراہمی کا ایک قابلِ اعتماد مرکز بن سکتا ہے۔تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے خام مال کی مستحکم قیمتیں، بندرگاہوں پر مثر انتظام، شفاف ترسیلی نظام اور عالمی کھاد منڈی کے رجحانات پر مسلسل نظر رکھنا ناگزیر ہوگا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک