مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، ترک صدر
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، جب تک اسرائیل کی جانب سے زمینوں پر قبضے کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔استنبول میں نیٹو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو دو ریاستی حل سے طے کیا جاسکتا ہے، 1967 کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار اور مکمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔اردوان نے کہا کہ حالیہ عرصے میں خاص طور پر غزہ اور لبنان میں ہونے والے واقعات نے انسانیت کے ضمیر پر گہرے زخم چھوڑے ہیں اور بین الاقوامی اداروں اور نظریات کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے، ترکیے لبنان کو نشانہ بنانے والے حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد خطے میں قائم ہونے والے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔
صدر اردوان نے کہا کہ نیٹو کی 360 ڈگری سکیورٹی پالیسی کا مطلب ہیکہ اتحاد کو یوکرین، خلیج اور فلسطین کے حالات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ ترکیے، پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو مستقل حل میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہیگا۔ترک صدر نے کہا کہ موجودہ حالات میں نیٹو کی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا اور اتحادی ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے، ترکیے نے نئے دور کی حقیقتوں کو بیشتر ممالک سے بہتر انداز میں سمجھا ہے۔ ترک صدر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
Comment / Reply From
Popular Posts
Newsletter
Subscribe to our mailing list to get the new updates!
