اسرائیلی فوج کی غزہ میں خیموں میں سوئے بے گھرافراد پر بمباری، ماں بچے سمیت 6 افراد شہید
غزہ میں قابض اسرائیلی فوج بے گھر فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے،عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی فورسز نے غزہ میں المواسی کے خیموں میں سوئے بے گھر افراد پر بم برسا دیے جس کے نتیجے میں ایک سال کے شیر خوار بچے اور 23 سال کی ماں سمیت 6 فلسطینی شہید اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ مغربی کنارے کے شہر البیرہ کے علاقے ام الشریط میں بھی اسرائیلی فوج نے چھاپے کے دوران 15 سالہ امیر احمد جواد جابر کو سر اور سینے میں گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ۔دوسری جانب غزہ کے شہر خان یونس میں واقع ناصر ہسپتال طبی سامان کی شدید قلت اور بڑھتے ہوئے مریضوں کے باعث انتہائی دبا کا شکار ہے۔شمالی غزہ کے متعدد ہسپتال تباہ ہونے کے بعد یہ طبی مرکز ہزاروں افراد کے لئے بنیادی سہولت بن چکا ہے، اسرائیلی فوج کی پہلی کارروائی کے دوران ناصر ہسپتال میں محصور درجنوں فلسطینیوں کو زندہ دفن کر دیا گیا تھا، بعد ازاں سول ڈیفنس اہلکاروں اور ڈاکٹروں نے وہاں سے لاشیں نکالیں، جنہیں اہل خانہ بڑی مشکل سے شناخت کر سکے۔طبی عملے کا کہنا ہے کہ طبی سامان کی شدید کمی بدستور برقرار ہے، اگرچہ بعض بین الاقوامی طبی تنظیمیں محدود امداد فراہم کر رہی ہیں تاکہ غزہ میں صحت کا نظام کم از کم سطح پر فعال رکھا جا سکے۔شمالی غزہ کے کئی ہسپتال منظم انداز میں تباہ کئے جا چکے ہیں جس کے باعث ناصر ہسپتال پر المواصی کے علاقے سے آنے والے ہزاروں خاندانوں کے علاج کی ذمہ داری آ گئی ہے۔
ناصر ہسپتال اس وقت غزہ کے طبی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تاہم اسرائیلی ڈرونز کی مسلسل پرواز اور غیر یقینی فوجی کارروائیوں نے علاج معالجے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔پورے غزہ میں دل کے مریضوں کے علاج کے لئے صرف ایک خصوصی کارڈیک مشین فعال ہے جس کے باعث سیکڑوں مریض فوری علاج کے انتظار میں ہیں اور ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نائب رابطہ کار رمیز الاکبروف نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نائب رابطہ کار رمیز الاکبروف نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جنگ بندی کا مکمل احترام کیا جانا چاہئے۔رمیز الاکبروف نے کہاکہ غزہ کے عوام کی جائز ضروریات، تحفظات اور امنگوں کو متعلقہ قرارداد پر مکمل عمل درآمد کے ذریعے پورا کیا جانا چاہئے، غزہ اور مغربی کنارے دونوں میں حالات بدستور غیر مستحکم ہیں۔انہوں نے کہا کہ جون 2026 تک جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے گھروں اور املاک پر حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی
Comment / Reply From
Popular Posts
Newsletter
Subscribe to our mailing list to get the new updates!
