سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان ریلویز کے خلاف کے الیکٹرک کے حق میں حکم جاری کر دیا ۔ کے الیکٹرک نے پاکستان ریلویز کے ڈیمانڈ نوٹس کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کا موقف تھا کہ پاکستان ریلویز بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے دیگر ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان ریلویز کھمبوں اور تاروں کی مد میں مسلسل رقم کا تقاضا کر رہا ہے، قانون کے تحت پاکستان ریلویز کو پیسے مانگنے کا اختیار نہیں ہے، یہ انسٹالیشن کے الیکٹرک کی نجکاری سے پہلے کی ہیں۔ بیرسٹر ایان میمن نے کہا پاکستان ریلویز بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، کبھی 50 کروڑ کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے اور کبھی 5 ارب روپے کی، اور رقم ادا نہ کرنے پر کھمبے اور تار ہٹا دیے جانے کا کہا جاتا ہے۔درخواست کی سماعت کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان ریلویز کے ڈیمانڈ نوٹس پر حکم امتناع جاری کر دیا اور ریلویز کی جانب سے کے الیکٹرک کو جاری ڈیمانڈ نوٹس معطل کر دیا۔عدالت نے پاکستان ریلویز اور ڈپٹی اٹارنی جنرل و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 12 دسمبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی