i بین اقوامی

سعودی عرب کی دنیا سے پولیو کے خاتمے کیلئے 50 کروڑ ڈالر کے وعدے کی توثیقتازترین

February 25, 2025

سعودی عرب نے چوتھے ریاض انٹرنیشنل ہیومینٹیرین فورم کے دوران ایک معاہدے پر دستخط کرکے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (جی پی ای آئی ) کے لیے اپنے 50 کروڑ ڈالر کے وعدے کی توثیق کردی۔ غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ان فنڈز کا ابتدائی طور پر گزشتہ سال اپریل میں ریاض میں منعقدہ پہلی عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا۔ جی پی ای آئی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنے سے جی پی ای آئی اور اس کے شراکت داروں کو ہر سال 37 کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے میں مدد ملے گی۔شاہ سلمان ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین سینٹر کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے دستخط کی تقریب میں شرکت کی جس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے شرکت کی۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل، ویکسین الائنس گاوی کی چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گیٹس فانڈیشن میں گلوبل ڈیولپمنٹ کے صدر اور پولیو نگرانی بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر کرس ایلیس اور پاکستان پولیو پلس چیئر، روٹری انٹرنیشنل کے عزیز میمن بھی تقریب میں شریک تھے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا کہ دنیا پولیو کے خاتمے کی راہ پر گامزن ہے اور سعودی عرب کو اس عالمی اقدام کا حصہ بننے پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی فنڈ آج کے سب سے زیادہ کمزور بچوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں اس قابل علاج بیماری سے آزاد زندگی گزار سکیں۔جی پی ای آئی کے شراکت داروں کی دہائیوں کی قیادت، عطیہ دہندگان کی فراخدلانہ مدد اور متاثرہ ممالک کے عزم کے نتیجے میں 1988 میں جی پی ای آئی کے قیام کے بعد سے پولیو کے کیسز میں 99 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ اس اقدام کے باعث آج ایسے 2 کروڑ افراد صحتمند زندگی گزار رہے ہیں جو دوسری صورت میں وائرس سے مفلوج ہو چکے ہوتے۔تاہم پاکستان اور افغانستان کے کچھ حصوں سے لے کر صومالیہ اور یمن تک انسانی بحرانوں کے باعث وائرس نے دنیا کے سب سے زیادہ کمزور بچوں کو مفلوج کیا ہے۔ 2024 میں یہ وائرس 25 سال بعد غزہ میں واپس پایا گیا اور اس نے ایک بچے کو مفلوج کیا، جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب تک پولیو کہیں بھی موجود ہے، ہر جگہ بچے خطرے میں رہیں گے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہم نے پولیو کو تاریخ کا حصہ بنانے کے اپنے مشترکہ مشن میں بہت پیشرفت کی ہے، لیکن آخری مرحلہ سب سے مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ کام کو ختم کرنے کے لیے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہوتی ہے اور سعودی عرب کی طرف سے یہ فراخدلانہ تعاون ہمیں تنازعات سے متاثرہ اور دیگر مشکل علاقوں میں بچوں تک پہنچنے میں مدد کرے گا کیونکہ ہم پولیو سے پاک دنیا کے وژن کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی