i بین اقوامی

نیٹو میں شامل کریں تو عہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں، یوکرین کے صدرکی پیشکشتازترین

February 24, 2025

یو کرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیشکش کی ہے کہ اگر کیف کو نیٹو فوجی اتحاد میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ یوکرین کے صدر کا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات سے قبل ایک بار مجھ سے ملیں،انکا کہنا تھا کہ جنگ پر خرچ 500 ارب ڈالر تو کیا 100 ارب ڈالر بھی واپس نہیں کریں گے، ایسی کسی بھی ڈیل پر دستخط نہیں کروں گا جس کی ادائیگی 10 نسلوں کو بھگتنا پڑے۔ غیرملکی خبررساںدارے کے مطابق صدر زیلنسکی نے روس کے حملے کے 3 سال مکمل ہونے پر کیف میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر یوکرین میں امن آجائے، اگر واقعی مجھے اپنا عہدہ چھوڑنے کی ضرورت ہے، تو میں تیار ہوں، اگر ضرورت پڑی تو فوری طور پر چلا جائوں گا۔ یوکرین کے صدر نے کہا کہ میں ٹرمپ سے بات چیت کرکے ایک دوسرے کو سمجھنا چاہوں گا، امریکی صدر کی جانب سے یو کرین کی سلامتی کی ضمانت کی بہت ضرورت ہے۔انہوں نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ پیوٹن کے ساتھ کسی بھی سربراہی اجلاس سے پہلے ان سے ملاقات کریں۔ ولادومیر زیلنسکی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صاف کہہ دیا کہ وہ جنگ پر خرچ 500 ارب ڈالر تو کیا 100 ارب ڈالر بھی واپس نہیں کریں گے، انہوں نے یورپی رہنماوں کیساتھ سربراہ اجلاس کا بھی اعلان کیا ہے۔دعوی کیا گیا ہیکہ امریکا نے یوکرین کے زیر زمین معدنی وسائل کے 50 فیصد حصے کے حقوق مانگے تھے تاہم یوکرین کے صدر زیلنسکی نے معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔

اگرچے برطانوی میڈیا کا دعوی تھا کہ صدر زیلنسکی ڈیل پر بعد میں آمادہ ہوگئے تھے مگر اب انہوں نے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی ڈیل پر دستخط نہیں کریں گے جس کی ادائیگی 10 نسلوں کو بھگتنا پڑے۔ یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے 500 ارب ڈالر تو کیا وہ 100 ارب ڈالر بھی تسلیم نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن سے رقم قرض نہیں امداد کے طور پر لی تھی۔صدرٹرمپ کا نام لیے بغیر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ خواہ کسی کو پسند آئے یا نہیں، امداد کی واپسی ذمہ داری نہیں ہوتی اس لیے ہم امداد واپس نہیں کریں گے۔یوکرینی صدر نے کہا کہ امن بزور طاقت روس سے ہو نہ کہ یوکرین کے ساتھ ایسا کیا جائے۔زیلنسکی کی جانب سے طویل المدتی سیکیورٹی امداد پر زور دینے اور ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے پر بات کرنے کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی اقدامات ماسکو اور کیف کو جنگ بندی کے قریب لا سکتے ہیں یا نہیں۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے سمجھوتے کے حصے کے طور پر کسی بھی علاقائی رعایت سے انکار کیا ہے، اور ماسکو بار بار یوکرین کے لیے نیٹو کی رکنیت کو مسترد کر چکا ہے، انہوں نے مشرقی یوکرین میں ماسکو میں ہونے والے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے بہت پہلے روس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی