i بین اقوامی

بھارتی گائوں میںسانپوں کا بسیرا ، بچوں کے سانپوں سے کھیلنے اور انھیں بستے میں سکول لے جانے کا انکشافتازترین

March 03, 2025

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ایک گائوں میں سانپوں کا بسیرا ، لوگ نے سانپوں کو پال رکھا ہے جبکہ بچوں کے سانپوں سے کھیلنے اور انھیں بستے میں سکول تک لے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ مغربی ریاست مہاراشٹر کا گائوں شیتپھل ہے۔ یہ شعلہ پور ضلع میں آتا ہے اور معروف شہر پونے سے کوئی 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس گائوں میں سانپ صرف گھروں میں ہی نہیں بلکہ کھیتوں، درختوں اور یہاں تک کہ سونے کے کمرے کے اندر بھی پائے جاتے ہیں۔گائوں والے ان سانپوں سے بالکل نہیں ڈرتے بلکہ ان کے ساتھ کھیلتے ہیں اور انہیں دودھ پلاتے ہیں۔یہاں کے لوگ سانپوں کو اپنے گھر کا حصہ مانتے ہیں اور گھر کے افراد کی طرح ان کے لیے کھانا بھی بناتے ہیں۔ جبکہ شیتپھل کی گلیوں میں آپ کو بچے ان سے کھیلتے بھی نظر آتے ہیں۔وہ بستے میں اپنے ساتھ سانپوں کو سکول بھی لے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ کے روہتک میں بھی ایک گائوں ہے جہاں سانپوں کا بسیرا ہے اور وہ وہاں کے لوگوں کو نہیں کاٹتے۔شیتپھل کے لوگ سیاحوں کو سانپوں کو سنبھالنے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں رپورٹ کے مطابق اس گائوں میں گذشتہ 300 سالوں سے ایک روایت چلی آ رہی ہے جس کے تحت یہاں سانپ کو مارنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ آج تک سانپ کے ڈسنے سے کسی کی موت نہیں ہوئی اور سانپ اکثر آکر لوگوں کو کاٹ لیتے ہیں لیکن مارے نہیں جاتے ۔ شیتپھل گائوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے آبا اجداد نے سانپ پالنا شروع کیا تھا۔ تب سے یہ روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ گائوں والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ سانپوں کو کیسے پکڑنا ہے اور کیسے پالنا ہے۔

لوگ بچپن سے ہی سانپوں کو سنبھالنا سیکھ لیتے ہیں۔یہ سانپ کوئی اور نہیں بلکہ کنگ کوبرا ہیں جنھیں مقامی آبادی ناگ یا گوہمن کہتی ہے۔ کنگ کوبرا انتہائی زہریلا سانپ ہے اور اس کا ڈسا چند گھنٹوں کا ہی مہمان ہوتا ہے۔سانپ کی انسان کے ساتھ رہائش کی وجہ سے یہ گائوں سیاحوں کی پسندیدہ جگہ بن گیا ہے، جہاں لوگ بچوں کو سانپوں کو ہاتھ میں لیے دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم شیتپھل گائوں میں سانپوں کو پالنا آسان نہیں ہے۔ گائوں والوں کا کہنا ہے کہ اس کی پرورش ان کے لیے بڑا چیلنج ہے، کیونکہ انہیں خاص قسم کی خوراک مہیا کرنی ہوتی ہے۔ انہوں نے خوراک کی بابت تو کچھ نہیں بتایا لیکن یہ کہا کہ سانپوں کو بیماریوں سے بچانا بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔حکومت اس گاں کو بچانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ حکومت نے گاں کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت گاں والوں کو سانپوں کے تحفظ کی تربیت بھی فراہم کر رہی ہے۔یہ فطرت کے ساتھ انسان کی حیرت انگیز ہم آہنگی کا نمونہ ہے۔ شیتپھل گائوں انڈین ثقافت کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ گائوں والوں کا کہنا ہے کہ یہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کا ایک سبق ہے اور یہ کہ پیار اور محبت کے ساتھ زہریلے جانوروں کو بھی ہمنوا اور دوست بنایا جا سکتا ہے۔انڈیا میں سانپوں کا ایک تہوار بھی منایا جاتا ہے جسے ناگ پنچمی کہتے ہیں۔ ناگ پنچمی ایک ہندو تہوار ہے جس میں سانپوں یا ناگوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ ہ ہندو کیلنڈر شراون کے مہینے میں چودھویں کے چاند کے پانچویں دن منایا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر مون سون کے شباب پر جولائی اگست کے مہینے میں آتا ہے جب سانپ اپنے بلوں سے نکلتے ہیں اور انڈیا میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ہندو عقیدت مند اپنے خاندان کی بھلائی کے لیے ناگوں کی پوجا کرتے ہیں، اور اسے برکت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی