جنوبی افریقی آل رائونڈر کوربن بوش نے وضاحت کی ہے کہ وہ پی ایس ایل کی بے توقیری نہیں کر رہے لیکن اپنے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے دستبرداری کا فیصلہ کرنا پڑا۔آئندہ ماہ شروع ہونے والی پی ایس ایل 10 کیلئے پشاور زلمی نے جنوبی افریقی آل رانڈر کوربن بوش سے معاہدہ کیا تھا البتہ انہوں نے ایونٹ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے آئی پی ایل فرنچائز ممبئی انڈینز سے ناطہ جوڑ لیا۔بھارتی لیگ 22 مارچ سے 25 مئی جبکہ پاکستانی ایونٹ 11 اپریل سے 18 مئی تک ہونا ہے، گزشتہ دنوں پی سی بی نے معاہدے کی خلاف ورزی پر بوش کو ایجنٹ کی معرفت سے لیگل نوٹس بھیجنے کا اعلان کیا تھا، ان کے جواب کی روشنی میں کسی حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا جاتا۔ذرائع نے بتایا کہ کوربن بوش نے پاکستانی حکام کے سامنے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پی ایس ایل کی بے توقیری نہیں کر رہے لیکن اپنے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے دستبرداری کا فیصلہ کرنا پڑا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ممبئی انڈینز کی نہ صرف بھارت بلکہ دیگر کئی لیگز میں بھی فرنچائز ہیں اس سے جڑ کر انہیں کیریئر کی لحاظ سے خاصا فائدہ ہو گا۔دوسری جانب پی سی بی اب ان کی وضاحت کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گا کہ انہوں نے کس حد تک کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کی اور ان کیخلاف کیا ایکشن لینا چاہیے۔ بعض حلقوں کے مطابق لیگ کی ساکھ سب سے اہم ہے اس لیے کوربن بوش پر آئندہ پی سی ایل میں شرکت پر پابندی عائد کر دینی چاہیے، اس سے دیگر کو بھی سبق ملے گا۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ پابندی کے اعلان سے دیگرکھلاڑیوں کے سامنے اچھا تاثر نہیں جائے گا، کوئی علامتی سزا دے کر معاملہ ختم کرنا مناسب ہو گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی