i کھیل

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نیا فیشن چل پڑا، بحث چھڑ گئیتازترین

January 14, 2026

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 2026 کے دوران ایک نیا اور متنازع رجحان زور پکڑ گیا، جسے ریٹائرڈ آئوٹ کہا جا رہا ہے۔اس فیصلے نے جہاں ٹیم مینجمنٹ کو اسٹریٹجک فائدہ دیا، وہیں شائقین اور سابق کھلاڑیوں کے درمیان شدید بحث بھی چھیڑ دی ہے۔حالیہ دنوں اس رجحان کا سب سے نمایاں واقعہ پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ پیش آیا، جنہیں بگ بیش لیگ کے ایک میچ میں کپتان وِل سدرلینڈ نے بیٹنگ کے دوران واپس بلا لیا۔محمد رضوان اس وقت 23 گیندوں پر 26 رنز کے ساتھ ناٹ آٹ تھے، تاہم ٹیم کی حکمتِ عملی کے تحت انہیں ریٹائرڈ آٹ کر دیا گیا۔یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جہاں شائقین نے اسے کھیل کی توہین اور کھلاڑی کی تضحیک قرار دیا۔ کئی مداحوں کا کہنا تھا کہ رضوان جیسے سینئر اور تجربہ کار کھلاڑی کے ساتھ ایسا سلوک ناقابلِ قبول ہے۔اعداد و شمار کے مطابق محمد رضوان جاری بگ بیش لیگ میں بیٹنگ کے اعتبار سے مسائل کا شکار رہے ہیں اور آٹھ میچوں میں صرف 167 رنز ہی بنا سکے۔

اس کے باوجود انہیں ریٹائرڈ آٹ کیے جانے کا فیصلہ حیران کن سمجھا جا رہا ہے۔ رضوان 2026 میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ریٹائرڈ آئوٹ ہونے والے چھٹے بیٹر بن گئے ہیں۔اس فہرست میں ویسٹ انڈیز کے رووسٹن چیز، نیدرلینڈز کے ٹِم پرنگل، ناردرن ڈسٹرکٹس کے جیٹ روال اور زیویئر بیل، اور سڈنی تھنڈر کے نک میڈنسن بھی شامل ہیں۔رووسٹن چیز ایس اے 20 لیگ میں پریٹوریا کیپیٹلز کی نمائندگی کرتے ہوئے ریٹائرڈ آٹ ہوئے، جبکہ ٹِم پرنگل کو سپر اسمیش میں کمزور کارکردگی پر واپس بلایا گیا۔ دیگر کھلاڑیوں کو بھی مختلف ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں اسی طرح کے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ایسے فیصلوں سے ٹیم کو وقتی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، تاہم اس رجحان نے کھیل کی روح، اسپورٹس مین اسپرٹ اور کھلاڑیوں کے اعتماد پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ شائقین کرکٹ اب اس بات پر منقسم دکھائی دیتے ہیں کہ آیا ریٹائرڈ آٹ جدید کرکٹ کی ضرورت ہے یا محض ایک متنازع حکمتِ عملی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی