پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے کہا ہے کہ دارلحکومت اسلا م آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر سے قبل سی ڈی اے کی جانب سے اب تک ادارے سے انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ (ای آئی اے) نہیں کروائی گئی ہے ۔میڈیارپورٹ کے مطابق ایجنسی کے ڈائریکٹر اور ترجمان ڈاکٹر زیغم عباس نے بتایا کہ ابھی تک سی ڈی اے کی جانب سے ہمیں باضابطہ طور پر اس حوالے سے اپروچ نہیں کیا گیا تاہم ممکن ہے کہ جب پراجیکٹ پر عملی طور پر کام شروع ہو تو پھر رابطہ کیا جائے۔دوسری جانب اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے بھی سی ڈی اے کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس مجوزہ منصوبے کے حوالے سے لے آئو ٹ پلان طلب کیا گیا ہے۔اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی چیئرپرسن عائشہ عمیرہ کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 کے قریب بننے والا سٹیڈیم مارگلہ نیشنل پارک کے بفر زون میں نہیں آتا۔رپورٹ کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے مشترکہ منصوبے کے تحت ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر خبروں کی زد میں ہے۔
اس حوالے سے یہ زیرِ بحث ہے کہ آیا سی ڈی اے نے اس منصوبے کے آغاز سے قبل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ (ای آئی اے)) کروائی ہے یا نہیں، اور یہ کہ کہیں یہ منصوبہ نیشنل پارک کی بفر زون میں تو نہیں؟۔اسلام آباد کے مارگلہ نیشنل پارک کے بفر زون سے مراد دراصل مارگلہ نیشنل پارک کے اطراف ایک حفاظتی پٹی کا ہونا ہے۔ یہ علاقہ نیشنل پارک کا باقاعدہ حصہ تو نہیں ہوتا، مگر اسے اس لیے رکھا جاتا ہے تاکہ پارک کو تعمیرات، شور، آلودگی اور انسانی دبا سے بچایا جا سکے، اور کم از کم 100 میٹر کے علاقے کو بفر زون تصور کیا جاتا ہے۔ اب اگر اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 کے قریب بنائے جانے والے سٹیڈیم کے بارے میں بات کی جائے تو یہ اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کے دامن میں تعمیر کیا جائے گا۔ دوسری جانب وفاقی ترقیاتی ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اسلام آباد میں کسی بھی تعمیر سے قبل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے انوائرمنٹل اسیسمنٹ لازمی کروائے، اور اس کے بعد ہی تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کرے۔ماحولیاتی قوانین، جن میں پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ شامل ہے، کے تحت اسلام آباد میں کسی بھی بڑے تعمیراتی منصوبے کے آغاز سے قبل انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ کی منظوری لازم ہوتی ہے، جو انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی دیتی ہے، اور اس کے بعد ہی سی ڈی اے تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ای پی اے کے ڈائریکٹر اور ترجمان ڈاکٹر زیغم عباس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اسلام آباد میں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے آغاز سے قبل اس کی ای پی اے سے اسیسمنٹ کروانا لازمی ہے۔تاہم سی ڈی اے کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر ای آئی اے جمع نہیں کروائی گئی۔ البتہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ممکن ہے کہ جب زمین کی الاٹمنٹ یا دیگر ابتدائی مراحل مکمل ہوں تو اس وقت ای پی اے کو اپروچ کیا جائے۔اسی حوالے سے سی ڈی اے کے متعلقہ ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 کے قریب زیر تعمیر مجوزہ سٹیڈیم مارگلہ نیشنل پارک کے بفر زون سے باہر ہے، جبکہ سی ڈی اے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور ای پی اے کو منصوبے کے حوالے سے آگاہ کرے گا۔ تاہم ای آئی اے کے لیے انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے رابطے پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔انعام الرحیم کے مطابق سٹیڈیم کی تعمیر سے قبل سی ڈی اے کو متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی رائے لینی چاہیے ۔اسی طرح اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی چیئرپرسن اور سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا نے بتایا کہ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور ای پی اے نے سی ڈی اے سے لے آٹ پلان اور دیگر تفصیلات طلب کی ہیں، اور جواب موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم ابھی تک کی معلومات کے مطابق سٹیڈیم بفر زون سے باہر ہی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی