i پاکستان

سندھ حکومت نئے صوبوں کے حق میں نہیں، انتظامی یونٹس سے بچنے کیلئے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، فاروق ستارتازترین

September 15, 2026

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نئے صوبوں کے حق میں نہیں ، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے بچنے کیلئے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک انرٹویو میں فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو تو وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ، 18 سال میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں تباہی مچائی ، اب اگر ان کا بوجھ بانٹا جا رہا ہے تو ان کو خوش ہونا چاہیے، انتظامی یونٹس سے جواب دہی کا معاملہ آسان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ نامناسب وقت پر سازش کے طور پر لایا گیا۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ آرٹیکل 140 اے کی نفی ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، مارچ میں سندھ بلدیاتی نظام کے 4 سال پورے ہو جائیں گے، 6 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے میئر کو بھی اختیارات نہیں دیئے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان چھوٹے اور زیادہ صوبوں کی حامی ہے۔ ماضی میں ایم کیو ایم نے 19 صوبوں کی تجویز بھی دی، جس میں جنوبی پنجاب، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبے بنانے کی بات شامل تھی۔

اس کے علاوہ استحکام پاکستان پارٹی جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف ماضی میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، 2018 میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانیکیلئے اقدامات بھی کئے گئے تھے تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کا موقف واضح نہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی تاریخی طور پر جنوبی پنجاب صوبے کی حامی رہی ہے لیکن موجودہ بحث میں پارٹی پنجاب کی تقسیم کے معاملے پر محتاط موقف رکھتی ہے اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ مسلم لیگ ن مختلف ادوار میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے۔ 2018 میں شہباز شریف نے جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبے کی بحالی کے لئے آئینی ترمیمی بل لانے کا اعلان کیا تھا، موجودہ صورتحال میں صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں جن میں سے بعض نے نئے صوبوں کی حمایت اور کچھ نے مخالفت کی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی